اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے خارجہ امور کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داو¿د، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، سابق سفرائ، خارجہ سیکرٹریز، ماہرینِ بین الاقوامی امور اور دیگر اراکین مشاورتی کونسل شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی والدہ مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کی۔ مشاورتی کونسل کے اجلاس میں افغان امن عمل کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ روابط کے فروغ سمیت خارجہ پالیسی کے کثیر الجہتی پہلوو¿ں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مشاورتی کونسل کے اراکین کو اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیام امن کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے، اب ساری دنیا ہمارے نکتہ نظر کی تائید کرتی ہوئی نظر آتی ہے، پاکستان افغانستان میں قیام امن کی اس مشترکہ ذمہ داری کو دوسرے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بطریق احسن سر انجام دے رہا ہے۔ مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ کے اس اجلاس میں تارکینِ وطن کے ساتھ روابط بڑھانے کے لئے سیاحت، تجارت ،سرمایہ کاری، قانونی امداد اور تعلیم جیسے شعبوں کو بروئے کار لانے پر بھی زور دیا گیا۔