اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، مسئلہکشمیر، فلسطین اور مشرق وسطی کی صورتحال پر پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ سے ایک صفحہ پر رہے ہیں اورتمام علاقائی اور بین الاقوامی امورپر یکساں مﺅقف رکھتے ہیں، سعودی ولی عہد کے دورہ کے دوران مختلف معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں ایک مقامی ہوٹل میں تحریک تحفظ حرمین شریفین کے زیر اہتمام پاکستان سعودی دوستی اظہار تشکر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے بر محل اور بر موقع اس ہمہ گیر کانفرنس کے انعقاد پر تحریک کے صدر مولانا علی محمد ابو تراب اور جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان خلیل کی کاوش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین نے ہمیشہ حرمین شریفین کے تحفظ کی آواز بلند کرنے اور امت کو یکجا کرنے میں ایک موثر اور توانا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان کسی اعلیٰ سطحی سعودی شخصیت کا طویل عرصہ بعد پاکستان کا دورہ ہے جو دونوں ممالک بالخصوص خطے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا قریبی برادر ملک ہے جو ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا ہے اور پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد سعودی عرب کی تعمیرو ترقی میں اپنا خون پسینہ شامل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے سعودی ولی عہد کے دورے کے خطے پر مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روحانی، تاریخی اور مضبوط تعلقات ہمیشہ سے ہیں اورہمیشہ رہیں گے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے، ہمیں سعودی عرب کے ساتھ اس دوستی پر فخر ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی اہمیت سے کسی سیاسی جماعت یا مکتبہ فکر کی دو رائے نہیں ہے، مسلم دنیا کی جانب نظر دوڑائیں تو پاکستان کی نظر سب سے پہلے سعودی عرب کی طرف جاتی ہے، ہر سال دو لاکھ سے زائد پاکستانی ملک سے اور بڑی تعداد میں خلیج اور دیگر ممالک سے حج پر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی بھی ایک تاریخ ہے،سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ وزیرمذہبی امور نے کہا کہ حکومت پاکستان ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی اور فقید المثال استقبال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اور عوام بھی پاکستان کے لئے خاص محبت رکھتے ہیں، سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران معاہدے بھی ہوں گے اوریمن، افغانستان، کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل مل کر نکالنے پر بھی بات ہو گی۔ کانفرنس سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ایک قومی بیانیہ سامنے آیا ہے کہ کل قومی اجتماع اس بات پر متفق ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر شکر گزار ہیں اور پوری قوم حرمین شریفین کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں اور ہمہ وقت حرمین شریفین کے تحفظ اور دفاع کے لئے تیار ہے۔ کانفرنس سے مولانا فضل الرحمان خلیل نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بڑے بھائی والا سلوک کیا ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، آج کا یہ نمائندہ اجتماع یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں، تاجر ، علماء، عوام اور ہر مکتبہ فکر سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گا۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جس پر ہم سعودی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں اور ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کا خیر مقدم کر تے ہیں۔انہوں نے کہا آج بھی پاکستان کی معاشی صورتحال میں سعودی عرب نے ہمارے ساتھ غیر مشروط تعاون کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پورے عالم اسلام کیلئے سوچتا ہے اور پاکستان کو امت مسلمہ کی قوت سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تحریک تحفظ حرمین الشریفین اور اپنی جماعت کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ حرمین شریفین کے دفاع کو مقدم رکھیں گے۔کانفرنس سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش،پاسبان اسلام کے رہنما مولانا سلطان محمود ضیائ، جماعت اسلامی کے رہنما قاضی آصف لقمان، مولانا عبدالصمد سیال، مولانا نذید فاروقی، عبادالرحمان حنیف، مولانا ابو بکر صدیق، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا عبدالکریم قاسمی، قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالقدوس محمدی اوردیگر مکاتب فکر کے علماء، تاجر نمائندوں اوراہم شخصیات نے بھی خطاب کیا اور تحریک تحفظ حرمین شریفین کے بیانیہ کی حمایت کی۔