اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) پاکستان پیس کولیکٹو (پی پی سی) کے زیر اہتمام ارکان پارلیمان کیلئے ”بحرانی صورتحال میں سٹریٹیجک کمیونیکیشن اینڈ میڈیا انگیجمنٹ“ کے عنوان سے 2روزہ تربیتی ورکشاپ کا آغاز ہو گیا جس میں قومی اسمبلی، سینیٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی عوامی نمائندے شریک ہیں۔ ارکان پارلیمان کیلئے یہ اپنی نوعیت کی دوسری تربیتی ورکشاپ ہے۔ ورکشاپ کا مقصد ارکان پارلیمان کی بحرانی صورتحال کے دوران میڈیا سے رابطے اور بات چیت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات شفقت جلیل نے منگل کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمنٹیری سروسز (پپس) میں تربیتی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ورکشاپ میں شریک ارکان پارلیمان نہ صرف اس تربیتی ورکشاپ سے خود استفادہ کر سکیں گے بلکہ پرتشدد انتہاءپسندی کے رجحان سے نمٹنے کیلئے اپنے تجربات سے آگاہ بھی کریں گے اور تجاویز بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک میں تشدد اور انتہاءپسندی کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنے کے سلسلہ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی تائید و حمایت سے تیار کیا گیا نیشنل ایکشن پلان پرتشدد انتہاءپسندی سے نمٹنے کیلئے ہمارے قومی عزم کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ پپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ظفر اﷲ خان اور پاکستان پیس کولیکٹو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں شبیر انور نے شرکاءکو اس تربیتی ورکشاپ اور کسی بحرانی صورتحال میں میڈیا سے رابطے اور بات چیت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ ورکشاپ کے دوران مختلف مقررین نے پرتشدد انتہاءپسندی سے نمٹنے میں ارکان پارلیمان کے کردار کو اجاگر کیا۔ شرکاءکو معاشرہ پر متشدد رویہ کے نفسیاتی اثرات کو کم کرنے کیلئے سٹرٹیجک کمیونیکیشن کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ تربیتی ورکشاپ کے دوران پرتشدد انتہاءپسندی اور دہشت گردی کے مختلف نوعیت کے واقعات پیش آنے کی صورت میں میڈیا سے بات چیت کے طریقہ کار کے حوالہ سے مشقیں بھی کی گئیں۔ ورکشاپ سے کترینہ حسین، بیرسٹر مہرین خان، بریگیڈیئر (ر) مودت ایچ رانا، اور خورشید ندیم سمیت مختلف مقررین نے اظہار خیال کیا اور اس موضوع سے متعلقہ مختلف پہلوﺅں کا احاطہ کیا۔