اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے انڈین پریمیئر لیگ(آئی پی ایل) کی نشریات پر پابندی عائد کرنے ،سماجی تحفظ و انسداد غربت ڈویژن کے قیام ،آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور ملائیشین آڈٹ کے ساتھ تعاون کے معاہدے ،وژن انٹرنیشنل کے لائسنس، ذاتی کاروبار کرنے پر حسن عرفان خان کی آئی پی او سے برطرفی، ائیر مارشل ارشد ملک کی سی ای او پی آئی اے ،نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے لئے تین ممبران کی تقرری ،پی ایم ڈی سی ،او جی ڈی سی ایل ،ایس ایس جی پی ایل ،ایس این جی پی ایل کے لئے نئے بورڈ سربراہان اور ممبران، بینکنگ عدالت لاہور ،لاہور سیون اور فیصل آباد کے لئے ججز کی تقرری،فاٹا کے خاصہ دار اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے لئے58.3بلین کے فنڈز کی منتقلی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوںکی منظوری دیدی ہے ،وزیراعظم عمران خان نے موسم گرما بلخصوص رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے ، گندم کی نئی پیداوار کی خریداری ،آئندہ سردیوں میں گیس کی مطلوبہ مقدار یقینی بنانے،نئی گاڑیوں پراضافی رقم کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایات دی ہیں، وزیراعظم نے علی محمد مہر کے گھر پر ڈکیتی اور زخمی ہونے کے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر ہوا بازی میاں محمد سومرو نے علی محمد مہر کے گھر ڈکیتی کے معاملے پر اجلاس کی توجہ مبذول کرائی ،وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ پہلی مرتبہ شریک ہوئے ،کابینہ اراکین نے انھیں مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے بتایا کہ غربت کے خاتمے کے لئے سماجی تحفظ اور انسداد غربت کے نام سے ایک نیا ڈویژن تشکیل دیدیا گیا ہے ،تاریخ میں پہلی مرتبہ غربت کے خاتمے کے لئے الگ سے ڈویژن تشکیل دیا گیا ہے ،شماریات ڈویژن کا نام تبدیل کر کے یہ ڈویژن بنایا گیا ہے ،اس ڈویژن کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر ہونگی یہ ڈویژن وزارت منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات کے تحت کام کریگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ شور کر رہے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا جارہا ہے ،ایسا ہر گز نہیں ہورہا ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اپنی جگہ کام کرتا رہے گا لیکن یہ نئے ڈویژن کے تحت ہوجائے گا، اس کے علاوہ بیت المال ،زکوة ، صحت کارڈ پروگرام سمیت اس طرز کے دیگر ادارے بھی نئے ڈویژن کے ماتحت ہونگے جبکہ غربت مٹاﺅ پروگرام کے تحت ایک نیا پروگرام احساس اور کفالت بھی شروع کیا گیا ہے ،وہ نوجوان جو کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس بینک گارنٹی نہیں ہے انھیں آسان قرض کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی رویہ کے بعد پاکستان کے میڈیا ،فلم انڈسٹری ،کیبٹل آپریٹرز ،فنکاروں ،اداروں نے بھی ردعمل کے طور پر بھارتی مواد کا بائیکاٹ کیا لیکن ابھی آئی پی ایل میچز بعض کیبلز پر دکھائے جارہے ہیں ،وزارت اطلاعات و نشریات نے کابینہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی اور استدعا کی کہ بھارتی آئی پی ایل میچز پاکستان میں بند ہونے چاہیں جس پر کابینہ نے آئی پی ایل میچز نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دیدی،پیمرا کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس پابندی پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن(پی ایم ڈی سی) کے نئے بورڈ کی منظوری دیدی گئی ہے، پی ایم ڈی سی بورڈ کے چیئرمین شمس الدین شیخ ہونگے جبکہ ممبران میں اعجاز احمد ،محمد داﺅد ، ارشاد علی کھوکھر اور متعلقہ ادارے کے حکام ہونگے ۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (او جی ڈی سی ایل) کے نئے بورڈ کی بھی منظوری دی گئی ہے ،بورڈ کے چیئرمین قمر جاوید جبکہ محمد اکبر کے پی کے ، سعدیہ خان سندھ ، نثار احمد ممبر پنجاب ہیں۔سوئی سدرن گیس لیمٹیڈ کمپنی کے نئے بورڈ کی بھی منظوری دی گئی ہے ،شمشاد اختر ایس ایس جی پی ایل کی چیئرپرسن جبکہ ممبران میں قاضی عظمت عیسی ،فیصل بنگالی اور رضوان فرید شامل ہیں ۔سوئی نادرن گیس لمیٹیڈ کمپنی(ایس این جی پی ایل) کے نئے بورڈ کی بھی منظوری دی گئی ہے ،سید دلاور حسین ایس این جی پی ایل بورڈ کے چیئرمین جبکہ ممبران میں ڈاکٹر سہیل ،ایم اے میاں ،ایم ایس روحی ،حمایت اللہ خان اور ادارے کے حکام شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے لئے تین ممبران نور زمان ، امام علی شاہ اور سید انعام الرحمان کی تقرری ،بینکنگ عدالت فیصل آباد کے لئے امجد نذیر چوہدری ،بیکنگ عدالت لاہور کے لئے سردار طاہر ،بیکنگ عدالت لاہور سیون کے لئے رانا نذیر اقبال کی تقرری کی منظوری دی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاﺅ ضرور ہے لیکن جب ہم نے اس ملک کی معیشت کو سنبھالا تھا اس وقت سے آج کی معیشت بہت حد تک بہتر ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے بننے والے قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ،فوجی عدالتوں کی وجہ سے عملی نتائج سامنے آئے انھیں مزید توسیع دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع اپوزیشن جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہی ہوسکتی ہے اگر اپوزیشن نے ساتھ دیا تو توسیع ہوگی اگر نہ ساتھ دیا تو توسیع نہیں ہوگی لیکن اپوزیشن کو ہر چیز احتساب روکنے کے لئے استعمال نہیں کرنے دیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10سالوں کے دوران سندھ کو 9ٹریلین کے فنڈز ملے لیکن وہ نیویارک اور لندن میں جائیدادیں خریدنے میں لگ جاتے ہیں ،سوال یہ نہیں کہ فنڈز کہاں سے آئیں گے سوال یہ ہے کہ فنڈز استعمال کہاں ہونگے ،سندھ کے عوام کا بھی یہی سوال ہے کہ اربوں روپے کہاں گئے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا چپڑاسی بھی ارب پتی ہوچکا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم مجموعی طور پر اچھی ہے لیکن اعلی تعلیم ،صحت اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں کی منتقلی ٹھیک نہیں ہے یہ شعبے وفاق سطح پر ضروری ہیں ۔الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے کہا کہ کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق رائے کے لئے ملاقات کی جائے ،مشاورت اگر کرنی ہے تو وہ خط اور ٹیلی فون کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے ،شہباز شریف اور نواز شریف کو چاہیے کہ وہ تناﺅ کے ماحول سے ابھی باہر ہیں اور ایسا کچھ نہ کریں کہ دوبارہ انھیں تناﺅ کے ماحول میں جانا پڑے ،اگر معاملے پر مشاورت نہیں ہوتی تو یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔