اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اصلاحات، ٹیکس کلچر کے فروغ، بدعنوانی کے خاتمہ اور سادگی اختیار کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے اقتصادی استحکام حاصل کر سکتا ہے جس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وہ منگل کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے زیر اہتمام پاکستان کے اقتصادی جائزہ اور آگے کا راستہ کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں اقتصادی استحکام اس انداز سے آنا چاہئے جس سے عام آدمی کے معاشی حالات بہتر ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی امور کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس وصولی اور سادگی پر مبنی اقدامات پر زور درست ہے اور یہ قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بڑی افسوسناک ہے کہ دنیا کی دولت کا 50 فیصد ایک سو امیر ترین افراد کے پاس ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے اور یہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی دین ہے۔ صدر مملکت نے لوگوں کے درمیان مساوات کو یقینی بنانے اور انہیں روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پرتعیش اشیاءکی درآمد میں کمی اور کالے دھن کے انسداد کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے بھی اقتصادی استحکام کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی اور وہ اپنے سرمایہ کے حوالہ سے عدم تحفظ کا شکار رہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عالمی بینک پاکستان کو کاروبار میں آسانی کی اپنی درجہ بندی بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرے گا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکے گی۔