اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی اعتماد اور برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان کی جمہوری منتخب حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں، فوجی قیادت منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، دونوں ملکوں کا افغان مسئلہ پر یکساں مو¿قف ہے، افغان صدارتی انتخابات میں طالبان کی شرکت ضروری ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے، انہیں آئین کے تحت برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں، کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، پاکستان میں میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے، پاکستان میں سنسر شپ نہیں، ہم میڈیا واچ ڈاگ کو مضبوط کریں گے، معاشی اصلاحات، غربت کا خاتمہ اور یکساں نظام تعلیم ہماری ترجیحات میں شامل ہے، اس وقت پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، ہماری حکومت کی ترجیح تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم کرنا ہے، حکومت سنبھالتے ہی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی، پاکستان بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ تنازعہ کشمیر ہے، خطہ کی ترقی کےلئے امن ناگزیر ہے، امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، افغانستان میں امن کیلئے مکمل تعاون کر رہے ہیں، سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، میرا مقابلہ ان سے تھا جنہیں سپریم کورٹ نے سسیلین مافیا قرار دیا۔ وہ منگل کو امریکی تھنک ٹینک ”انسٹی ٹیوٹ آف پیس“ میں خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی عزت و احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، اس وقت پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں ملک افغان مسئلہ پر یکساں مو¿قف رکھتے ہے، افغان مسئلہ کا کوئی آسان حل ممکن نہیں تاہم پاکستان، افغانستان اور امریکہ مل کر اس کا پائیدار حل نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آزاد ملک میں پیدا ہونے والی پہلی نسل میں سے ہوں، ہمارے والدین نوآبادیاتی نظام کے دور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 60 کی دہائی میں تیزی سے ترقی کی، 70 کی دہائی کے بعد پاکستان کے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے، 70 کی دہائی تک پاکستان کی صنعتی پیداوار چار ایشیئن ٹائیگرز ممالک کے برابر تھی، اس وقت ہمارے ملک کی تنزلی کی بنیادی وجہ بدعنوانی ہے، حکمران طبقہ کی کرپشن نے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، میں نے 15 سال تک کرپشن کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، سب سے پہلا مسئلہ مشکل اقتصادی صورتحال تھی، سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، 2008ءمیں پاکستان کا کل قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا، صرف 10 سالوں میں سابقہ حکمرانوں نے اسے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچایا، گذشتہ سال ملک کی مجموعی آمدن کا نصف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ٹیکس نظام کو بہتر کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری حکومت ملک میں صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جبکہ غربت کے خاتمہ کیلئے پروگرام شروع کیا ہے اور ملک میں یکساں نظام تعلیم ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے بڑے پیمانے پر احتساب کا عمل شروع کر رکھا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ ملک لوٹنے والوں سے جو رقم وصول کریں گے وہ غریبوں پر خرچ ہو گی، حکومت میں آنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے ان مافیاز پر ہاتھ ڈالا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے تین مارشل لاءکا دور دیکھا ہے، فوجی حکومت کسی مسئلہ کا حل نہیں، جمہوریت ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحہ پر ہیں اور فوجی قیادت منتخب جمہوری قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ بی بی اپنی مرضی کے مطابق بیرون ملک چلی گئی، ماضی میں ایک مخصوص مذہبی گروپ نے ملک کو یرغمال بنا رکھا تھا لیکن ہماری حکومت میں جیسے ہی وہ سڑکوں پر آئے انہیں گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں کے حوالے سے عملی اقدامات مغربی دباﺅ پر نہیں کر رہے بلکہ وہ بھی ہمارے شہری ہیں۔ میڈیا کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے، میں برطانیہ میں رہ چکا ہوں وہاں کا میڈیا ایسی کوئی چیز نشر نہیں کر سکتا جیسا پاکستان میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد میڈیا کی بدولت ہی میں اپنا پیغام اور منشور عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہوں، پاناما سکینڈل آنے کے بعد ایک بڑے چینل نے ملوث افراد کو بچانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا، اگر پاکستان میں میڈیا مالکان سے ٹیکسز کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اسے بھی میڈیا آزادی پر حملہ گردانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی آزادی میڈیا مالکان کی من مانی کو نہیں قرار دیا جا سکتا۔ پاکستان میں این جی اوز سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شکیل آفریدی نے ایک این جی او کی آڑ میں جاسوسی کی اور شکیل آفریدی کے واقعہ کے بعد کئی پولیو ورکرز کو انتقاماً نشانہ بنایا گیا۔ کشمیر سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر کا ہے اور اس مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں مقامی تنظیمیں کارروائیاں کر رہی ہیں، مسلح ملیشیاءپاکستان کے مفاد میں نہیں، ہم نے پہلے ہی کالعدم تنظیموں کو غیر مسلح کر دیا ہے اور یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم کسی مسلح گروہ کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مکمل طور پر مقامی ہے، کشمیری نوجوان بھارتی مظالم سے تنگ آ کر بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن تینوں ملکوں کے مشترکہ مفاد میں ہے، پاکستان افغانستان میں امن عمل کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے آنیوالے انتخابات میں طالبان کی شمولیت ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل حالات میں مدد کرنے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا شکر گزار ہے۔ ایران امریکہ تنازعہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران تنازعہ کے فریق ممالک کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہونا چاہیے، ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان اس تنازعہ سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات قائم کرنا ہے، خطے کی ترقی کے لئے امن ناگزیر ہے، حکومت سنھالتے ہی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی، دوسرا ہمسایہ افغانستان ہے ہم نے اشرف غنی کو پاکستان مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل مجھے بہت سی تجاویز دی گئیں، امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار تجربہ رہا، جس طرح امریکی صدر نے ہماری مہمان نوازی کی وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام سمجھتے رہے کہ وہ امریکی جنگ لڑ رہے ہیں، افغان جنگ کی ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی، اربوں ڈالر کا نقصان کیا، ہم نے اس جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضاءتھی، میرا ہمیشہ یہ مو¿قف رہا کہ افغان مسئلہ طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے، امریکہ میں ہر ایک کو یہی سمجھاتا رہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، امریکی عوام کو افغان تاریخ کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، دونوں ملکوں کا افغان مسئلے پر یکساں مو¿قف ہے، افغان مسئلہ کا کوئی آسان حل ممکن نہیں تاہم مل کر پائیدار حل نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی محاذ پر مجھے محسوس ہوا کہ میں سیاسی جماعتوں کی بجائے مافیا سے لڑ رہا ہوں، سپریم کورٹ بھی سابق حکمران کو سیسیلین مافیا سے تشبیہہ دے چکی ہے، مجھے پاکستانی نوجوانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔