اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکا کامیاب رہا، ساری دنیا کی نظریں اس دورہ پر تھیں، عدالت کے فیصلہ کے باوجود اسلام آباد مرغزار کا چارج وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حوالہ نہیں کیا، اگر پرندوں اور جانوروں کو کچھ ہوا تو انتظامیہ ذمہ دار ہو گی، کاسمیٹکس بنانے والی 57 کمپنیوں میں سے 54 کی مصنوعات میں مرکری کی مضر صحت مقدارِ پائی گئی ہے، اپنے منصوبوں میں تیزی لا کر وزارت نے 46 فیصد اخراجات کم کئے ہیں، 14 اگست سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی لگائی جا رہی ہے اس حوالہ ضلعی انتظامیہ ہمارے ساتھ آن بورڈ ہو گی۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکا کامیاب رہا ہے، ساری دنیا کی نظریں ان کے اس دورہ پر تھیں، وہ پاکستان اور مسلمانوں کیلئے کیس لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست سے وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی لگائی جا رہی ہے، اس وقت ایک اندازہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 20 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں جو اندازاً روزانہ تین سے چار بیگ فی کس استعمال کرتے ہیں جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام کاروباری مراکز کے دکانداروںکو آگاہ کر دیا گیا ہے، اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو اسے ابتدائی طور پر ایک لاکھ، دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر 2 لاکھ جبکہ تیسری بار خلاف ورزی کرنے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا، اس حوالہ سے ضلعی انتظامیہ ہمارے ساتھ آن بورڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاپنگ بیگز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے میڈیا، سول سوسائٹی، این جی اوز اور دیگر ادارے ہمارا ساتھ دیں۔ زرتاج گل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد مرغزار کا فیصلہ ہماری وزارت کے حق میں دیا ہے جبکہ وہاں کی انتظامیہ ہمیں چارج دینے کو تیار نہیں، میں انہیں تنبیہ کر رہی ہوں کہ اگر مرغزار میں موجود پرندوں اور جانوروں کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار مرغزار انتظامیہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مرغزار پر حکومت سالانہ 11 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ اس کی آمدن صرف 4 لاکھ 50 ہزار روپے ہے، اس طرح لاہور چڑیا گھر پر 13 کروڑ روپے سالانہ خرچ کئے جا رہے ہیں اور اس کی آمدن 3 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلہ کو پانی پت کی لڑائی نہیں بنانا چاہتے اور انتظامیہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مرغزار کا چارج وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حوالہ کر دے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ آج کل ہماری خواتین میں رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور وہ رنگ گورا کرنے والی کریموں کا بے تحاشا استعمال کر رہی ہیں، وزارت کے سروے کے مطابق پاکستان میں 57 مقامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جن میں 54 کمپنیوں کی مصنوعات میں مرکری کی مقدار مضر صحت حد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے موٹرویز اور شاہراہوں کے گرد درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا تھا جس پر کامیابی سے کام جاری ہے، آئندہ کراچی، حیدرآباد، سکھر موٹروے کے اطراف درخت لگائے جائیں گے تاکہ مسافروں کو سرسبز ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اس بات کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ مارگلہ نیشنل پارک کا چارج بھی وزارت کے پاس آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے اپنے منصوبوں میں تیزی لائی ہے اور وزیراعظم کا کلین اینڈ گرین منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے اور ملک بھر میں پودے لگائے جا رہے ہیں جبکہ وزارت نے اپنے اخراجات میں کمی کرکے 46 فیصد بچت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ملک کو سالانہ 14 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو ہمارے ملک کے جی ڈی پی کے 5 فیصد ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر مملکت نے صحافیوں میں کپڑے سے بنے بیگز تقسیم کئے۔