واشنگٹن ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل وقت جلد ختم ہونے والا ہے، ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے، قومی دولت لوٹنے والے جو مرضی کر لیں ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنا پڑے گا، کسی صورت میں بھی کسی کو این آر او نہیں دوں گا، این آر او کیلئے دوسرے ملکوں سے سفارشیں آ رہی ہیں، ملک کے طاقتور لوگ جیل میں ہیں، یہ ہے اصل تبدیلی، جتنا مرضی شور مچا لیں پیسہ واپس کر کے ہی جیل سے باہر نکل سکتے ہیں، دھرنے کیلئے کنٹینر دینے کو تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے جیب میں پرچیاں نہیں لایا، ملک میں جاگیردارانہ نظام اور خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں، میرا کوئی رشتہ دار یا دوست کسی عہدے پر نہیں ہے، ہم نے اداروں کو آزاد کیا ہے، کسی کے اوپر ہم نے کیس نہیں بنایا، آپ کو ہر سال پاکستان تبدیل ہوتے ہوئے نظر آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیپیٹل ون ایر ینا میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے بہت عزت دی ہے اس کیلئے آپ لوگوں کا دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے سوچا تھا کسی ہوٹل میں کچھ لوگوں کو بلا کر بات کی جائے گی لیکن اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگوں سے بات ہو رہی ہے یہ ایک نئی تاریخ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ لگانے والے پاکستانیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے وزیراعظم عمران خان کا نعرہ سنتا آ رہا ہوں لیکن اب میں وزیراعظم بن گیا ہوں آپ کو یقین ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں ایک چیز آپ نے یاد رکھنی ہے اللہ نے یہ جو ہمیں ملک دیا ہے، کسی کو پتہ نہیں ہے کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ پاکستان اب ہر سال آپ کو تبدیل ہوتا ہوا نظر آئے گا، پاکستان ہر سال بہتری سے بہتری کی جانب سفر کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں جو ملک آگے گئے وہ میرٹ کی بنیاد پر آگے گئے، جمہوریت میں میرٹ اہم ہوتا ہے، لیڈر شپ میرٹ کی بنیاد پر ابھرتی ہے، آسٹریلوی کرکٹ ٹیم میرٹ کی وجہ سے دنیا کی کامیاب ترین ٹیم ہے، پاکستان میں کرکٹ میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کو ملٹری ڈکٹیٹر نے لیڈر بنا دیا، نوازشریف کی وجہ سے شہباز شریف وزیراعلیٰ بنا رہا، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کاغذ کا ٹکڑا دکھا کر لیڈر بن گئے، ولی خاندان کا بھی یہی حال ہے، مولانا فضل الرحمان بھی اسی طرح لیڈر بنے اور اس کے بھائی اور بچے بھی لیڈر بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی میں بہترین میرٹ ہے، جمہوریت میں لیڈر شپ عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب کسی سے کرپشن کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے انتقامی کارروائی کا رونا روتے ہیں۔ جب عدالت فیصلہ کرتی ہے تو کہتے ہیں کہ کیوں نکالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب نیا پاکستان بن رہا ہے، ہم نے کسی پر بھی کوئی نیا کیس نہیں بنایا ہم نے صرف اداروں کو آزاد کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1985ءکے الیکشن میں پہلی دفعہ سیاست میں پیسے اور رشوت کا استعمال ہوا۔ سیاستدانوں کو خریدا گیا، چھانگا مانگا میں لوگوں کو بکتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک چیزلا رہے ہیں کہ جو قوم کا سربراہ ہوتا ہے وہ قوم کو جوابدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سارے اکٹھے ہو گئے ہیں ایک دینی جماعت کا سربراہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف اپنے آپ کو سیکولر سمجھنے والے لوگ ہیں وہ بھی ان کے پیچھے چل رہے ہیں، ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ میں این آر او دوں لیکن کسی صورت میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، این آر او کیلئے دوسرے ملکوں سے سفارشیں آ رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بے نامی جائیدادیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجا گیا پیسہ واپس لا رہے ہیں، ہم نے طاقتور لوگوں کا احتساب شروع کر دیا ہے جو لوگ اربوں کھربوں روپے باہر لیکر گئے ہیں وہ واپس لانے کیلئے متعلقہ ملکوں سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان میں میرٹ کا نظام لا رہے ہیں، ہمارا کمزور تعلیمی نظام نچلے طبقے کو اوپر نہیں آنے دیتا، سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بہتر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم کیلئے کوشش کر رہے ہیں، مدرسے کے طالب علموں کو بھی دنیاوی تعلیم دی جائے گی، 8 لاکھ بچے انگلش میڈیم، سوا تین کروڑ اردو میڈیم اور پچیس لاکھ بچے مدرسوں میں جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جاگیردارانہ نظام اور خاندانی سیاست کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں، آج پاکستان میں عمران خان کا کوئی رشتہ دار یا دوست کسی عہدے پر نہیں ہے، مراد سعید اور حماد اظہر جیسے نوجوان آگے آئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ریکوڈیک منصوبہ رکنے کی تحقیقات کیلئے ہدایات دی ہیں، ریکوڈیک میں 200 ارب ڈالر کے معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، تھر میں 180 ارب ٹن کوئلہ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، کرپشن کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں معدنی ذخائر کو استعمال میں لانے کیلئے نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ختم کر کے پاکستان کو اوپر اٹھا کر دکھاﺅںگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ ملک کو اتنا اوپر لے جاﺅں کہ باہر سے لوگ نوکری کیلئے پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر فلاحی ریاست بنائیں گے، پاکستان میں انصاف اور میرٹ کا نظام لائیں گے، پاکستان میں قانون ہر امیر اور غریب کیلئے برابر ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کروں گا، اگلے ورلڈ کپ میں پاکستان کی بہترین ٹیم کھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے سمیت سب اداروں کو ٹھیک کر رہے ہیں، جب اقتدار میں آئے تو ہر ادارہ خسارے میں تھا، مشکل وقت جلد ختم ہونے والا ہے، ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سب تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا پڑے گا، سب مل کر تھوڑا تھوڑا ٹیکس دیں تو ملک قرضوں کی دلدل سے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی باقی ملکوں کی نسبت بہت کم ٹیکس دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ملک پر قرضہ چڑھایا ان سے ہی وصولی کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب کرپٹ لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں، احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ان کو دھرنے کیلئے کنٹینر دینے کو بھی تیار ہوں۔ جو مرضی کر لیں آپ کو ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف جیل میں ٹی وی ، اے سی کی سہولت کا مطالبہ کرتے ہیں واپس جا کر یہ سہولیات ختم کر دوں گا۔ مجھے پتہ ہے مریم بی بی شور مچائیں گی، مریم بی بی جتنا مرضی شور مچا لے، پیسہ واپس کر کے ہی جیل سے باہر نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری جیل سے زیادہ ہسپتال میں وقت گزارتا ہے، اس کو اب جیل میں ہی ر کھنا ہوگا، ملکی پیسہ واپس کریں تو آپ کو جیل سے باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بار بار کہتا تھا کہ میں نے کچھ کیا ہے تو جیل میں ڈال دیں، اب ہم نے اسے جیل میں ڈال دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کیا ہم اس وقت اکٹھے ہوں گے جب سب جیل میں ہوں گا، وزیراعظم نے کہا کہ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ سب جیل میں ہی اکٹھے ہونگے۔ ملک کے طاقتور لوگ جیل میں ہیں، یہ ہے اصل تبدیلی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے جیب میں پرچیاں نہیں لایا۔ انہوں نے کہا کہ شروع سے کہہ رہا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے مذاکرات ہی مسئلے کا بہترین حل ہے۔ وزیراعظم عمر ان خان نے کہا کہ کبھی کسی کے سامنے نہ جھکا ہوں نہ بکا ہوں، میں اپنی قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔