اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کتاب بینی کے فروغ کےلئے حکومت 10 نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس سے امید ہے کہ نہ صرف کتابوں کے مطالعہ کے کلچر کو ترقی ملے گی بلکہ پبلشنگ کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے خصوصی اجلاس میں کیا جس میں لاہور کے پبلشروں اور بک سیلروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ڈاکٹر ندیم شفیق ملک اور ایم ڈی این بی ایف ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اس 10 نکاتی ایجنڈے میں اگلے سال کو بک ایئر قرار دینا، تعلیمی اداروں کو سہ ماہی بنیادوں پر کتابیں خریدنے کا پابند بنانا، کتابیں براہ راست پبلشروں سے خریدنے اور حکومتی سطح پر کتابوں کی صورت میں تحفے تحائف دینے کے کلچر کو فروغ دینا، یومِ اقبال کی مناسبت سے کتاب میلے کا انعقاد کرنا، ایچ ای سی کے تعاون سے پبلشنگ کے حوالہ سے نصابی کورسز کا اجراءکرنا اور بیرون ِ ملک کتاب میلوں میں پاکستانی پبلشروں کی نمائندگی میں اضافہ کےلئے کوششیں کرنا شامل ہیں۔ سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے یقین دہانی کرائی کہ ہر ماہ ایسا مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں کتابوں کی اشاعت کے حوالہ سے درپیش مسائل اور ان کے حل کےلئے ہونے والی پیشرفت پر بات کی جائے گی، پبلشروں کے حقوق کےلئے حکومت کی طرف سے جلد ہی قومی کتاب پالیسی بھی وضع کی جائے گی۔ اجلاس میں پبلشروں اور بک سیلروں نے پرائیویٹ بک انڈسٹری سے متعلق اجتماعی مسائل بھی بیان کئے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔