اقوام متحدہ۔ 19 جولائی (اے پی پی)اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کی صدر ماریا فرنانڈا ایسپینوزا گارسیز نے کہا ہے کہ گذشتہ جنوری میں ان کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کے لوگوں، دلکش قدرتی مناظر اور کھانوں نے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیا۔ وہ پاکستانی کھانوں، حسین قدرتی مناظر اور پاکستان کے قدیم ثقافتی ورثے کے تعارف پر مشتمل کتاب ”ڈائننگ الانگ دی انڈس“ کی تقریب رونمائی سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نبی پاک کے اس فرمان کا حوالہ بھی دیا کہ علیحدہ علیحدہ کھانا نہ کھاﺅ کیونکہ مل کر کھانے میں برکت ہے۔ ماریا فرنانڈا ایسپینوزا گارسیز نے کہا کہ رمضان میں گھر کے تمام افراد کا اکٹھے ہوکر روزہ افطار کرنا پوری دنیا کے مسلم معاشروں کی نمایاں خصوصیت ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ہم مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کھانے کی میز پر جمع کر کے ان میں اتحاد و اتفاق پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس کے حصول کے لئے اقوام متحدہ دن رات کوشاں ہے۔ اس عمل سے ہم اپنی مشترکہ تاریخ اور انسانی اقدار کو سامنے لاسکتے ہیں اور دنیا سے بھوک کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔کتاب کی تدوین سوئزرلینڈ کی مشروبات کی کمپنی نیسلے کے زیر اہتمام کی گئی اور اس کی رنگا رنگ تعارفی تقریب کا اہتمام اقوام متحدہ میں پاکستان اور سوئزر لینڈ کے مشنز نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔