نئی دہلی ۔ 25 اگست (اے پی پی) بھارتی معیشت میں سست روی اور روزگار کے کئی ملین مواقع ختم ہو جانے پر ریاستی اداروں اور بہت سے ماہرین کے بعد اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔جرمن میڈیا نے بھارت کے حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اس سال یکم اپریل سے 15 اگست تک براہ راست ٹیکس ریونیو میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی، یہ شرح کم ہو کر 4.7 فیصد ہو گئی حالانکہ اس سال کی دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 9.6 فیصد تھی اور مطلوبہ شرح 17.3 فیصد ہے۔بھارت کی فیڈریشن آف آٹو موبائل ڈیلرز (فاڈا) کے مطابق گزشتہ تین ماہ( مئی تا جولائی) کے درمیان گاڑیاں فروخت کرنے والے تاجروں نے اپنے تقریباً دو لاکھ ملازمین فارغ کر دیے۔بھارت میں اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حالت بھی نہایت خراب ہے، اس شعبے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر دس کروڑ افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے لیکن ملک بھر میں ایک تہائی سپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں اور جو چل رہی ہیں وہ بھی خسارے میں ہیں۔