سرینگر ۔ 25 اگست (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے جموںوکشمیر پر بھارتی تسلط اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کوروکنے کے لےے آج مسلسل 21 ویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری رکھی ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آج بھی ٹیلیفون ، موبائل اور انٹرنیٹ سروسزسمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع اور ٹیلیویڑن کی نشریات بند ہیں۔ قابض انتظامیہ گزشتہ 21 روز سے صحافیوں سمیت کسی کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی اور نہ مقامی صحافیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ دنیا کو گمراہ کرنے کے لےے قابض حکمران مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ علاقے میں حالات معمول پر آرہے ہیں جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ بھی کشمیر دشمن رپورٹنگ کرکے اپنی حکومت کے بیانےے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماﺅں پر مشتمل ایک وفد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے لےے سرینگر پہنچا تو قابض انتظامیہ نے انہیں ہوائی اڈے سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی اور انہیں ہوائی اڈے سے ہی واپس بھیج دیا جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال چھپا رہی ہے اور دنیا کو علاقے کی صورتحال سے بے خبر رکھنے کے لےے نہ تو کسی کو علاقے میں جانے کی اجازت دے رہی اور نہ ہی کوئی خبر باہر آنے دے رہی ہے۔