Prime Minister Imran Khan chairs meeting on economic development at Islamabad on 24th August, 2019

اسلام آباد ۔24 اگست (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان سے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داود و معاشی ٹیم کے دیگر ارکین نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے مفصل روڈ میپ پر تبادلہ خیال گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت معاشی صورتحال کے حوالے سے ہونے والے اجلاس پر مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج کا جو اجلاس تھا ان کے تین چار بنیادی مقاصد تھے۔ سب سے پہلے یہ کہ معیشت کی جو کارکردگی ہے اس کا جائزہ لیا گیا۔ خصوصی طور پر تمام اہم وزارتیں ہیں جن میں پلاننگ، زراعت، کامرس، انڈسٹری، ریونیو ان سب کی کارکردگی کو دیکھا گیا اور کوشش یہ تھی کہ کس طریقے سے حکومت نے جو بجٹ میں اپنے پیسے رکھے ہیں اس کے فوائد عام لوگوں تک پہنچیں۔ ہم نے تقریباً ساڑھے 9سو ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے ہیں۔ خیال یہ تھا کہ یہ پراجیکٹس اگر مکمل ہو جائیں تو اس سے لوگوں کی زندگی پر اثر پڑے گا اور ساتھ ہی ساتھ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی بڑے منصوبے ہیں ان کو تسلسل کے ساتھ مانیٹر کیا جائے تا کہ ان کو مکمل کر کے ان کے فوائد لوگوں تک پہنچائے جائیں۔ اسی طرح حکومت نے ملک کے کمزور طبقے کے لئے تقریباً 192 ارب روپے رکھے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ کیش ٹرانسفر یا صحت کے لئے جو کارڈ ہیں اس سے متعلقہ جو بھی پروگرام ہے اس میں تیزی لائی جائے تا کہ لوگوں کو محسوس ہو کہ ان کی حکومت ان کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ ہم نے 262ارب روپے کمزور طبقے کے لئے سبسڈی کے طور پر رکھے ہیں جس کا بنیادی مقصد کمزور طبقوں کو بجلی یا اور چیزوں کی قیمتوں سے پروٹیکشن دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں پچھلے ہفتے 9فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایکسپورٹ کافی عرصے بعد بڑھی ہیں ، جولائی کے جو نمبر آئے ہیں وہ اس سے پہلے والے مہینے کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں۔ جولائی سے پہلے کے مقابلے میں موجودہ ایکسپورٹ اور امپورٹ کے درمیان جو گیپ ہے اس میں بھی واضح کمی آئی ہے۔