اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ مضبوط اور خوشحال افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشائی خطے کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں امن و امان کی بہتری سے پاکستان سمیت پورے خطے کا امن وابستہ ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ ہاؤس میں افغانستان کے پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران اطراف نے معاشی تعاون اور علاقائی روابط کو مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کی بجائے گفت و شنید سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس عمل کی قیادت خود افغانستان کو کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی تکریم مشترکہ مفادات اور عدم مداخلت کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ہم افغانستان میں مستحکم حکومت کے خواہش مند ہیں جس کیلئے پاکستان کی کوئی پسند نہ پسند نہیں ہے۔ افغانستان کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے خود کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور پاکستان قیام امن کیلئے ہر قسم کی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے حوالے سے جاری مزاکرات کے حوصلہ افزا نتائج کیلئے پرْ امید ہے اور کہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت اور نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کیلئے پاکستان سب سے بہترین اور قدرتی معاون کے طور پر موجود ہے جو کہ نہ صرف تعمیر نو اور بحالی میں بھرپور معاونت کرسکتا ہے بلکہ باہمی اقتصادی روابط کی مضبوطی کیلئے معاشی معاونت کیلئے بھی ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفد کے تبادلوں سے پہلے سے موجود برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم ہوں گے اور ایک دوسرے کے درمیان غلط فہمیاں کے ازالہ میں مدد ملے گی۔چیئرمین سینیٹ نے افغان پارلیمانی وفد کا ایوان بالاء کی دعوت پر پاکستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ دونوں ملکوں میں ترقی کی راہیں کھل سکیں۔ پاکستان حکومت ریاست اور عوام ہمیشہ سے افغان بھائیوں کے ساتھ ہر مشکل میں موجود رہے ہیں اور آئندہ بھی یہ تسلسل برقرار رہے گا۔ ہم یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں ترقی و خوشحالی کے خواہش مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں اور افغانستان کو باہر کی ممالک کی بجائے تجارت کے شعبے میں پاکستان کو ترجیحی دینا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کی نوجوان نسل کے مابین ربت مستحکم ہو اس سلسلے میں مختلف مشترکہ پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اورتوقع ہے کہ افغانستان اس سلسلے میں کشمیری بھائیوں کی بھرپور معاونت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ وفود مختلف ممالک میں بھیجے جائیں گے تاکہ کشمیروں پرہونے والے مظالم کو دنیا بھر میں اْجاگر کیا جاسکے اور افغانستان کی اہمیت کی پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ میں بطور چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی مشترکہ طور پر افغانستان کا دورہ کریں گے تاکہ افغانستان کی پارلیمنٹ کے اراکین عوام اور تمام متعلقہ شعبوں کے نمائندوں کو کشمیر میں بھارتی بربریت سے آگاہ کیا جاسکے اور توقع ہے کہ افغانستان اس سلسلے میں بھر پور معاونت کرے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ اس برادرانہ تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ہمسایہ ہونے کے ناطے ہمیں ایک دوسرے کی بھر پور معاونت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن ہو گا تو خطے کو خوشحالی نصیب ہو گی۔ سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قدریں، دین، ثقافت، نسلی تعلق بہت مضبوط ہے اور ہمارے مسائل بھی مشترکہ ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنے مسائل کا حل بھی مشترکہ نکالنا چاہئے۔اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ کی معاونت کرنے والے دیگر سینیٹرز میں سلیم ضیائ ، لیاقت تراکئی اور مومن خان آفرید ی شامل تھے۔ 6رکنی افغان پارلیمانی وفد کے سربراہ سینیٹر فیض خان وکیلی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دورے کی دعوت اور مہمان نواز ی پر چیئرمین سینیٹ اور ارکان سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان جہاد کے دوران جسطرح پاکستان نے افغان مہاجرین کی خدمت کی اْس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انفراسٹکچر کی بہتری کیلئے بھی پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے افغانستان کے پسماندہ علاقوں تک توسیع دی جائے۔