اسلام آباد ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میںکرفیو کا سلسلہ پانچ ہفتوں تک پھیل چکا ہے اور بھارت کی جانب سے لاک ڈائون اور جبر و استبداد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹینیو گوئتریش سے ملاقات میں کہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آدھے گھنٹے سے زیادہ ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی مستقل مندوب نے سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور انسانی المیہ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت کے یکطرفہ ، غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات سے نہ صرف علاقائی بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں سنگین المیہ کے تناظر میں پیشگی حفاظتی سفارت کاری کی اہمیت بڑھی ہے کیونکہ صرف اسی صورت میں صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے معاملہ پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کرنے کے لئے بھارت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ غیرقانونی، غیرآئینی اور اقوام متحدہ کے چارٹر و سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں۔ بھارتی اقدامات سے کئی بحران پیدا ہو چکے ہیں، اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں سیاسی و آئینی بحران کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ مقبوضہ وادی میں 36روز سے کرفیو کا سلسلہ جاری ہے جس کے خاتمے کے کوئی اثرات دکھائی نہیں دے رہے۔ ا