اقوام متحدہ ۔ 13اکتوبر (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے بھارت کو ایک بار پھر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز دبانے کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے، کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی فراہمی تک اقوام متحدہ کا نوآبادیاتی نظام ختم کرنے کا ایجنڈا نامکمل رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خصوصی سیاسی ، ڈی کالونیزیشن کمیٹی سے خطاب کے دوران کیا۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیری عوام کے لیے حق خود ارادیت کی فراہمی سے انکارسے غصے اور عدم اطمینان کی کیفیت ہے اور اس سے تنازعات کو ہوا مل رہی ہے جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، یہ ملیحہ لودھی کا اقوام متحدہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے حوالے سے رواں ہفتے میں تیسرا خطاب تھا۔انھوں نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا بنیادی حق، حق خود ارادی دینے کے بجائے انھیں کئی دہائیوں سے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے رواں سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کو غیر قانونی طریقے سے بھارت کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ریاست کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا،اس مقصد کے لیے مزید ہزاروں بھارتی فوجی علاقے میں بھجوادیئے گئے جس سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ فوج کا حامل علاقہ بن چکا ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بے گناہ شہریوں پر تشدد اور انھیں بغیر کسی وجہ کے گرفتار کرنے کی اطلاعات مسلسل موصول ہورہی ہیں، بھارتی فوجیوں نے رات کے دوران گھروں اور دیگر مقامات پر چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہوں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں اشیائے خوراک اور ہسپتالوں میں دوائوں کی شدید قلت ہے جس سے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔