اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) دنیا بھر کی ایک سو اٹھاسی پارلیمان پر مشتمل انٹرپارلیمانی یونین کی ایک سو اکتیسویں جنرل اسمبلی کا اجلاس سربیا کے دارلحکومت بلغراد میں جاری ہے جس میں پاکستانی پارلیمانی سفارتکاری کی تاریخی فتح ہوئی ہے، بھارت کے امیدوار شسی تہور کے مقابلے میں سینٹر رضا ربانی انٹر پارلیمانی یونین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن منتخب ہو گئے اور بھارت کی تمام چالیں ناکام ہوگئیں۔ بھارتی وفد کی بھرپور کوشش کے باوجود بھی پاکستانی امیدوار نے فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد شریک انٹرپارلیمانی یونین کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس اتوار کو سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ساوہ کانفرنس سنٹر بلغراد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایشیا پیسیفک ممالک کی جانب سے آئی پی یو کی مجلس عاملہ کے لئے متفقہ نمائندہ منتخب کرنا تھا۔ سپیکر اسد قیصر بین القوامی پارلیمانی تنظیم آئی پی یو کی ایشیا پیسیفک گروپ کے موجودہ چیئرمین ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس اہم عہدے کے لئے سینٹر رضا ربانی کو نامزد کیا تھا۔ پاکستان نے گروپ میں فوری خفیہ الیکشن کا مطالبہ کر دیا۔ خفیہ رائے دہی میں اپنی یقینی ہار کا اندازہ کرتے ہوئے ہندوستانی امیدوار نے اپنا نام واپس لینے کا اعلان کر کے شکست تسلیم کر لی اور سینیٹر رضا ربانی کامیاب قرار پائے جو پاکستان کی ایک بڑی پارلیمانی فتح ہے۔ اس موقع پر بھارتی وفد نے انتخابات موخر کروانے کی بھرپور کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکیاور بھارت کی اس چال کو چونتیس رکنی ایشیا پیسیفک گروپ کے کسی بھی رکن کی جانب سے پذیرائی نہ مل سکی۔ آخری وقت میں ہندوستان کی لوک سبھا نے اجلاس کے دوران نامور مصنف اور کانگرس کے رکن لوک سبھا شسی تہور کو امیدوار نامزد کر دیا۔ سینٹر رضا ربانی کے علاوہ ایشیا پیسیفک گروپ نے سینٹر شیری رحمان کو کمیٹی برائے پائیدار ترقی، مالیات اور تجارت کا رکن بھی منتخب کر لیا۔ بھارتی امیدوار کے انتخاب سے دستبرداری کے اعلان کے بعد سینٹر رضا ربانی بلا مقابلہ متفقہ امیدوار کے طور پر تین سال کے لئے انٹر پارلیمانی یونین کی مرکزی مجلس عاملہ کے ممبر منتخب قرار دے دیئے گئے جبکہ سینٹر جاوید عباسی ڈرافٹنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہو گئے۔ پارلیمانی سفارتکاری کے میدان میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں پاکستان کی پارلیمنٹ کی شاندار فتح ہوئی ہے اس سے قبل شاندانہ گلزار بھی دولت مشترکہ خواتین کی چیئرپرسن منتخب ہوئی ہیں۔