اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی)سی پیک منصوبے کے تحت 8.2 ارب ڈالر مالیت سے ریلوے کی مین لائن ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کامنصوبہ شروع کیا جائے گا،پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اربوں ڈالر کے ایم ایل۔ ون منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے، کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک کی لمبائی تقریبا 1800 کلومیٹر ہوگی اور نیا سگنلنگ سسٹم لگایا جائے گا، نئے ٹریک پر کوئی کراسنگ نہیں ہوگی اور ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل کے بعد ریلوے کے تمام موجودہ کراسنگز کو ختم کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک کے تحت ریلوے کی مین لائن ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے اس اسٹریٹیجک منصوبے پرجلدکام مکمل کرکے پاکستان ریلوے کوجدید خطوط پر استوارکیا جاسکے گا ۔وفاقی حکومت ریلویز کے شعبے کو رواں مالی سال کے بجٹ میں خصوصی اہمیت دے رہی ہے تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جاسکے۔سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق ایم ایل ون کی تکمیل کے بعد ، اس کی رفتار 65سے 105 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 120سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی، 2025 تک مال بردار نقل وحمل 6 سے 35 ٹن تک بڑھ جائے گی اور مال بردار نقل و حمل میں ریلوے کا حصہ بڑھ جائے گا۔ ایم ایل ٹو (فاسٹ ٹرین) منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ بھی اپنے چینی ہم منصب کو فراہم کی ہے۔ 3سے 4 سالوں میں ایم ایل ون کی تکمیل کے بعد تیزرفتار ٹرین منصوبے پر جلد کام شروع کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا اس منصوبے میں زبردست دلچسپی لینے کے بعد پاکستان ریلوے کے لئے ایک اہم منصوبہ ایم ایل ون 14 سال بعد ایک حقیقی شکل اختیار کر گیا ہے۔