اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ علمائے کرام محراب اور منبر کے ذریعے لوگوں کو اخلاق واقدار کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لئے سماجی شعور پیدا کریں، نشہ آور اشیاء کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بیان کئے جانے والے مواد کا بھی سد باب وقت کا اہم تقاضا ہے، جب تک معاشرے سے منشیات کی طلب ختم نہیں ہو گی اس کا خاتمہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جمعرات کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں دعوة اکیڈمی کے زیرانتظام پاک فوج کے آئمہ کورس کے شرکاء کی تقسیم اسناد اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، پی این ایف راولپنڈی کے اشتراک سے ” نشہ سے انکار زندگی سے پیار” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کی مشترکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور نے کہا کہ منشیات کا استعمال پاکستان سمیت دنیا بھر کا یک سلگتا ہوا ایشو ہے۔ علماء اور خطباء اس کی روک تھام کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ علمائے کرام معاشرے کی تربیت کرتے ہیں اور تربیت کرنے کا حکم قرآن حکیم میں آیا ہے۔ تربیت کنندہ کی تربیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئمہ کورس کے شرکاء بھی تربیت سے مستفید ہوں گے۔ وزارت مذامور ان کورسز کی وسعت کے حوالے سے دعوة اکیڈمی کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ محراب اور منبر کے ذریعے لوگوں کو اخلاق اور اقدار سیکھانے کے لئے علمائے کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خطباء کرام روزہ، نماز اور حج پر زور دیتے ہیں اس طرح انہیں حقوق العباد ، روزمرہ کے مسائل پر بھی بات کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات، شجرکاری، ٹریفک اور ملکی قوانین کے احترام کے حوالے سے بھی محرب و منبر سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نور الحق قادری نے کہا کہ حضور سرور کائنات ۖ کی شخصیت کے ساتھ شروع سے رہی کہ مکہ کے لوگ آپۖ کو صادق اور امین قرار دیتے تھے ۔