اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی محرومی کے خاتمہ کے لئے ملک کے جمہوری نظام کو خطرے سے دوچارنہ کریں، اس وقت عالمی اور ہماری سرحدی صورتحال کسی تحریک کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ جمعرات کو ”اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کے قیام کے 72 سال بعد پہلی دفعہ دینی مدارس کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں وزارت تعلیم سے منسلک کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی محرومی کے ازالے کے لئے مذہبی نعروں کا استعمال نہ کریںاور سیاسی امور کے لئے مذہب کا استعمال بند کریں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں ملک کی 28 مذہبی جماعتوں نے مولانا فضل الرحمن کے ان مذہبی نعروں سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور ان کی اس تحریک اور ہنگامہ آرائی سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز اور ملک کو ہوگا، اس وقت میڈیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کی کسمپرسی اور حالت زار پر تھی لیکن ان کے مارچ کی وجہ سے میڈیا کی توجہ بھی تقسیم ہورہی ہے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب۔ ایران کشیدگی کے بعد شام اور ترکی اب آمنے سامنے ہیں، بھارت ہمارے خلاف کسی مہم جوئی کے تانے بانے بن رہا ہے، ہمارے وزیر اعظم کامیاب دورہ چین کے بعد سعودی عرب اور ایران جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دو چار کرنے کے درپے ہیں، اس مہم جوئی میں انہیں اپوزیشن کا تعاون بھی حاصل نہیں ہے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن 20 سال بعد اقتدار سے محروم ہوئے ہیں اس لئے بے چین ہیں اور ان کی اس بے چینی کے نتیجے میں ملک کے موجودہ سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔