تہران ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ایران کا دورہ کیا جو خلیج میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لئے ان کے اقدامات کا ایک اہم اقدام ہے، وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے معاون برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل تھے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے قریبی روایتی تعاون اور تاریخی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے بالخصوص تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے مزید استحکام کے لئے اپنا عزم بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ گہرے تعاون پر مبنی تعلقات ہمیشہ پاکستان کی ترجیح رہے ہیں۔ وزیراعظم مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 68روز سے جاری مسلسل کرفیو اور 8ملین کشمیریوں کے لاک ڈاﺅن کے حوالے سے ایران کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ وزیراعظم نے صدر حسن روحانی کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے 5اگست کے غیرقانونی اور غیرآئینی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے جو خطے کے امن اور سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ خطے کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے خلیج میں فوجی تنازعات سے بچنے اور فریقینکے مثبت مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات اور تناﺅ کو کم کرنے کی کوشش میں بھرپور تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے اور پاکستان اختلافات اور تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرانے کے حوالے سے ہر طرح کا ممکنہ تعاون فراہم کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایران کی بھرپور حمایت پر پاکستان کے عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم اور وسیع کیا جائے گا۔