تہران۔ 13 اکتوبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیںاور دونوں برادر ممالک کے درمیان اختلافات مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعے سے نہ صرف خطے کے امن و سلامتی بلکہ معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کے صدر کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری ملاقات ہے،ان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت پر بھی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت پر ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں،بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں قید کر رکھا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ایران آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازعہ نہ ہو، پاکستان نے طویل عرصے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور 70ہزار جانیں قربان کیں،ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی تنازعہ جڑ نہ پکڑ سکے کیونکہ خطے میں پہلے ہی افغانستان اور شام میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات انتہائی تاریخی اور گہرے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ ایران سعودی تنازعے سے خطے کے امن کے ساتھ معیشت کو بھی شدید خطرہ ہے، تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے خطے میں اس قسم کا تنازعہ انتہائی نقصان دہ ہے،ان کا کہنا تھا کہ وہ منگل کو سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے صدر حسن روحانی سے مشاورت حوصلہ افزا رہی جبکہ مثبت سوچ کے ساتھ سعودی عرب جاﺅں گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے دورے اور بات چیت خالصتاً پاکستان کا اپنا اقدام ہے، دونوں ملکوں کے درمیان سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پیچیدہ معاملہ ہے تاہم ان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کرنے کو کہا، آج ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے سب کچھ کریں گے تا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہو اور پابندیاں اٹھائی جا سکیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر پڑوسی اور دوست ملک ہیں، دونوں ملک مل کر خطے کے استحکام کے لیے کاوشیں کر سکتے ہیں۔