اسلام آباد ۔ 11 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی انتھک کوششوں اور معاشی ٹیم کی دن رات محنت سے معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے میں کامیاب رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ذاتی جیبیں بھرنے کی بجائے قومی خزانہ بھرا جا رہا ہے، اقتصادی اور معاشی اقدامات سے سرمایہ کاری کا فروغ اور صنعتی ترقی کے مواقع بڑھیں گے، رواں مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ میں بدستور کمی ہو رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، برآمدات میں 4 فیصد اضافہ جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیوں میں16 فیصد اضافہ ہوا ہے، سیمنٹ کی صنعت کی پیداوار 4.5 فیصد اضافہ سے 16 ملین ٹن بڑھی ہے، سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے اچھی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 2.1 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کئے گئے، حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک پیسہ بھی ادھار نہیں لیا، وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے تحت 30 ارب روپے اضافی مختص کئے جا رہے ہیں‘ حکومت 30 ارب روپے کی سبسڈی دے گی، تعمیرات کے شعبہ سے منسلک دیگر صنعتوں کو ٹیکس میں خصوصی مراعات دی جائیں گی، اقتصادی پالیسی کے تحت برآمدات کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس حوالہ سے 200 ارب روپے اضافی مختص کئے گئے ہیں تاکہ حکومت برآمد کنندگان کو قرضوں کی فراہمی پر سبسڈی دے اور ان کو 200 ارب روپے کے سستے قرضے دیئے جائیں گے، سٹیٹ بینک آف پاکستان سے قرضوں کے اجراءکیلئے 100 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پیر کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی وزیر حماد اظہر، وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سیّد شبر زیدی نے کہا کہ قومی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور عوام کو اس کے ثمرات منتقل کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ قومی برآمدات کا فروغ ہو اور ملک میں صنعتی، تجارتی و تعمیراتی سرگرمیوں کو بڑھایا جا سکے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ذاتی جیبیں بھرنے کی بجائے قومی خزانہ کو بھرا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس اس لئے اہم ہے کیونکہ بعض عناصر قومی معیشت کے حوالہ سے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی انتھک کوششوں اور حکومت کی معاشی ٹیم کی دن رات محنت سے معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی معیشت کی ترقی کے اقدامات سے سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر قومی معیشت کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس اس لئے اہم ہے کہ پاکستان کے عوام کو ملک کی اقتصادی صورتحال اور اس حوالہ سے کئے جانے والے چند اہم فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے چار ماہ گزر چکے ہیں جو قومی معیشت کے حوالہ سے انتہائی مثبت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ میں بدستور کمی ہو رہی ہے، ڈالر کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور مالیاتی خسارہ میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے قومی معیشت کے حوالہ سے عالمی برادری کو اچھا تاثر جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران ملکی برآمدات میں صفر فیصد اضافہ ہوا لیکن ان چار ماہ میں برآمدات 4 فیصد بڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اندرون ملک ٹیکس محصولات 21 فیصد بڑھے ہیں، سیمنٹ کی پیداوار 4.5 فیصد اضافہ سے 16 ملین ٹن سے زائد رہی ہے جس سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سٹاک مارکیٹ نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اس میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے تاجروں سے ایک اچھی ڈیل کرکے ان کو مراعات دیں اور طے پایا کہ کاروبار کو دستاویزی شکل دے کر ٹیکس ادائیگیوں کو بڑھا کر قومی ترقی میں کاروباری طبقہ بھی حصہ دار بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار ماہ کے دوران حکومت نے 2.1 ارب ڈالر کے قرضے واپس کئے ہیں جو سابقہ حکومتوں نے لئے تھے، اسی طرح کریڈٹ ریٹنگ کی شرح برقرار ہے۔ قومی معیشت کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران سٹیٹ بینک سے ایک پیسہ بھی ادھار نہیں لیا جو قومی معیشت کی اچھی تصویر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد گذشتہ ہفتے پاکستان آیا ہے جس نے قومی معیشت کی کارکردگی کی رپورٹ تیار کی اور یہ رپورٹ معیشت کے تمام شراکت داروں کو پیش کریں گے جس سے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے اچھے تشخص کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے گئے وعدے اور اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا ہے اور آئی ایم ایف کی ٹیم نے 450 ملین ڈالر کی دوسری قسط کی ادائیگی کی سفارش کی ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کے حوالہ سے ایک اچھا پیغام گیا ہے کہ یہاں پر معاشی بحالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے علاوہ عالمی بینک کے صدر نے بھی چند دن پہلے پاکستان کا دورہ کیا اور انہوں نے بھی توانائی کے شعبہ، سرکاری اداروں، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات اور اصلاحات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے چند فیصلے کئے ہیں جن کے تحت وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے تحت 30 ارب روپے اضافی مختص کئے جا رہے ہیں جس سے 300 ارب روپے کے گھر بنانے میں مدد ملے گی، حکومت 30 ارب روپے کی سبسڈی دے گی، تعمیرات کے شعبہ سے منسلک دیگر صنعتوں کو ٹیکس میں خصوصی مراعات دی جائیں گی، اقتصادی پالیسی کے تحت برآمدات کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس حوالہ سے 200 ارب روپے اضافی مختص کئے گئے ہیں تاکہ حکومت برآمد کنندگان کو قرضوں کی فراہمی پر سبسڈی دے اور ان کو 200 ارب روپے کے سستے قرضے دیئے جائیں گے، سٹیٹ بینک آف پاکستان سے قرضوں کے اجراءکیلئے 100 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، ان اقدامات سے مجموعی قومی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی میں اضافہ ہو گا اور اقتصادی ماحول کی بہتری سے برآمدات بھی بڑھیں گی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے برآمدکنندگان کو ریفنڈ کی مد میں 30 ارب روپے کے پرامزری نوٹ اور بانڈ جاری کئے تھے جس پر کیش کا مطالبہ کیا گیا اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فوری طور پر 30 ارب روپے کیش کی صورت میں ادا کئے جائیں گے تاکہ برآمدی شعبہ کو سرمایہ کاری دستیابی سے اس کی کارکردگی بڑھے۔ پاور سیکٹر کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کے تحت 1.6 کھرب روپے کی گارنٹی دے سکتی تھی جس میں 250 ارب روپے اضافہ کیا جا رہا ہے، حکومت اس شعبہ کو ادائیگی کرے گی تاکہ گردشی قرضہ کو کم کیا جا سکے، اس طرح بجلی کے پیداواری شعبہ کی کمپنیوں کو 250 ارب روپے اضافی دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران معیشت استحکام کی جانب بڑھی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سمیت دیگر بڑے بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور اقتصادی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں اور حکومت قومی معیشت کے پہیہ کو تیزی سے چلانے کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ برآمدات بڑھیں اور ڈالر کما کر خوشحالی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اس سفر پر گامزن رہیں گے تاکہ معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے اختتام پر اقتصادی ترقی کے اہداف باآسانی اور بخوبی حاصل کر لئے جائیں گے۔ سابقہ فاٹا کے ترقیاتی کاموں اور این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ صوبوں کو این ایف سی مل رہا ہے اور سابقہ فاٹا کے شیئر کے حوالہ سے فیڈریشن اور چاروں صوبے مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کیلئے حکومت نے سابقہ فاٹا کیلئے 152 ارب روپے کے تاریخی فنڈ مختص کئے ہیں کیونکہ کے پی کے میں ضم ہونے والے ان اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس حوالہ سے کئے گئے آپریشنز کا سامنا کیا ہے جس سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مختص کردہ بجٹ سے سابقہ فاٹا کے عوام انتہائی مطمئن ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے شرح سود اور مانیٹری پالیسی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شرح سود طے کرنا سٹیٹ بینک کا کام ہے اور اس کی پالیسی کی تیاری مانیٹری پالیسی کمیٹی کرتی ہے جس میں معروف ماہرین معیشت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اداروں کو خود مختار بنایا ہے تاکہ وہ دباﺅ کے بغیر فیصلے کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی ماہرین تیار کرتے ہیں اور اس سے شرح سود طے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی پالیسی کی تیاری میں سرمایہ کاروں اور قرضہ حاصل کرنے والوں کی مشکلات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قیمتوں پر کنٹرول کرنے کیلئے حکومت مختلف طریقوں پر عمل پیرا ہے، اگر کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کی رسد بڑھائی جاتی ہے، گذشتہ دنوں جب آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان ہوا تو ای سی سی نے 6.5 لاکھ ٹن گندم فوراً جاری کی جس سے قیمتیں کم ہوئیں، وفاقی حکومت قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے تاہم صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کھیت سے لے کر منڈی تک پہنچنے کے دوران قیمتوں میں زیادہ اضافہ پر قابو پانے کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمگلنگ کی وجہ سے بھی اشیاءضروریہ ہمسایہ ملکوں میں سمگل ہو جاتی ہیں جس پر قابو پانے کیلئے مو¿ثر پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر پر قابو پانے کیلئے حکومت اپنے اخراجات کم سے کم کر رہی ہے جس کیلئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیں گے اور نہ ہی نئے نوٹ چھاپے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے جس کے تحت گذشتہ چار ماہ کے دوران ایک روپے کا نیا نوٹ نہیں چھاپا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ سستے گھروں کی تعمیر کے منصوبہ کیلئے مختص کئے گئے بجٹ کے علاوہ حکومت نے اضافی 30 ارب روپے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے دی جانے والی سبسڈی پر سٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت مل کر بوجھ برداشت کریں، حکومت صنعتی شعبہ کے قرضوں کے سود پر سبسڈی دے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں حماد اظہر نے کہا کہ جون کے بعد ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوا ہے اور رواں مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر 1.2 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ پاکستان ریونیو اتھارٹی کے قیام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ ہم ٹیکس محصولات کے حوالہ سے خود مختار ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس حوالہ سے تمام شراکت داروں کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ایف بی آر ایک اہم ادارہ ہے، اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ قابل اور پروفیشنل ماہرین کی تعیناتی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اتھارٹی کے حوالہ سے ابھی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے لیکن سب سے مشاورت کے بعد ہی پالیسی تیار کی جائے گی اور اس میں صحافتی برادری کی رائے بھی شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں کمی کیلئے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو بھی 6 ارب روپے اضافی دیئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے حوالہ سے اچھی کارکردگی پر ملک کی معاشی ٹیم اور حکومت پر عالمی اداروں کا اعتماد بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار ماہ کے بہتر معاشی نتائج پر عوام کو مراعات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق آگے بڑھیں گے اور آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سمیت دیگر اداروں کے ساتھ اشتراک کار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کا یہاں آنا اور قومی معیشت کے حوالہ سے بیان دینا ایک اچھی خبر ہے اور دنیا کے تجزیہ کار اس پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی قیمت اگر بڑھے تو شرح تبادلہ کے بارے میں سوچنا چاہئے لیکن گذشتہ حکومت نے روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے پر عوام کے 20 تا 25 ارب ڈالر جھونک دیئے جس سے برآمدات نہ بڑھ سکیں، پانچ سال کے دوران برآمدات کی شرح نمو صفر تھی اور اس سے صنعت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کے حوالہ سے کئے گئے حالیہ فیصلوں سے اگر درآمدات کی قیمتیں بڑھی ہیں تو اس میں موجودہ حکومت کا ذمہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز قیمت بڑھنے پر وزیراعظم عمران خان کو سب سے زیادہ دکھ ہوتا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ قیمتوں کو کم کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ چار ماہ سے پٹرول کی قیمتیں مستحکم ہیں، قیمتوں کا بڑھنا عوام کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسی اور موجودہ حکومت قیمتوں کے اضافہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ قومی اداروں کو بہتر بنانے کیلئے اگر اصلاح کی پالیسی اپنائی جائے گی تو وہاں کام کرنے والوں کے حقوق کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں گے اور کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔