واشنگٹن ۔ 13 نومبر (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی پالیسیوں کے باعث ملکی اقتصادیات کو نشاط ثانیہ نصیب ہوئی، تاہم صنعتی ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی کشیدگی سے ملک میں لوگوں کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا اور صارفین بھاری نرخوں پر اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ ماہ جب دونوں ملکوں کے درمیان جزوی معاہدہ تیاری کے قریب تھا تو میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ معاہدے پر عملدرآمد میں ناکامی کی صورت و درآمدیس محصولات میں اضافہ کردیں گے۔انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ جلد طے پاجائے گا، ہم وہی معاہدہ قبول کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہوگا۔دوسری جانب پورٹ آف لاس اینجلس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جینے سروکا نے ایک رپورٹ میں صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات سے ملک میں 15 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑچکا ہے جو جنوبی کیلی فورنیا کی پورٹس سے سامان کی نقل و حمل سے اپنا رزق کماتے ہیں کیونکہ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے باعث ان پورٹس پر کاروباری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک کے کچھ ریجنز اور صنعتوں میں روزگار کے مواقع کم ہورہے ہیں جس سے ان کی آمدنی اور ٹیکس وصولیوں کا عمل متاثر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بھاری محصولات کے باعث اشیاء کی درآمدی لاگت میں اضافے سے سالانہ 186 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا اور صارفین کو قیمتوں میں اضافے کے باعث اربوں ڈالر اضافی ادا کرنے پڑیں گے۔انھوں نے کہا کہ اکتوبر کے دوران ان بندرگاہوں سے اشیاء کی نقل و حمل میں اکتوبر 2018 ء کے مقابلے میں 19 فیصد کمی آئی، دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی جنگ نے کاروباری اداروں کی شکایات میں اضافہ کردیا ہے اور وہ مشکلات کا شکار ہیں۔