نیویارک ۔13 نومبر (اے پی پی) غربت کے خلاف عشروں سے جاری مسلسل کوششوں میںچین کوبہت بڑی کامیابی ملی ہے ۔ترقی پذیر ممالک میں تعلیم وصحت،امیگریشن اور عالمگیریت پر تحقیق کرنے والے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل کریمر کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی اور غربت میں کمی کا چینی تجربہ بے حد کامیاب رہا ۔ معیشت میں 2019 ء کا نوبل انعام حاصل کرنے والے پروفیسر کریمرنے چین کے قومی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ چین نے مناسب مراعات اور مسلسل تجرباتی عمل کے ذریعے تاریخی اہداف حاصل کئے اورغربت کے خلاف عالمی کوششوں میں خود کو اہم شراکت دار ثابت کیا۔انہوں نے کہا کہ چین نے 1949ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک 80 کروڑ سے زیادہ افراد کو غربت سے نجات دلائی۔ کریمر نے بتایا کہ اس انتہائی اعلیٰ شرح نمو کو چار دہائیوں تک برقرار رکھنا چین کی حیرت انگیز کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام ، صحت کی سہولیات اور مالی وظائف جیسی اصلاحات کے ذریعے چین سماجی تحفظ پربھرپور توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود میںبہتری لانا ایک طویل اور مشکل کام ہے کیونکہ نقل مکانی کے باعث بہت سے عمر رسیدہ افراد اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے ہیں جن کی صحت سمیت تمام ضروریات کا اہتمام چین کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔واضح رہے کہ 2018 ء کے آخر تک چین کی16.6 ملین دیہی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی تھی جن میں سے نصف سے زیادہ ملک کے کم ترقی یافتہ مغربی خطے میں مقیم ہیں ۔ یاد رہے کہ 2020ء تک انتہائی غربت کا خاتمہ چین کا قومی ہدف ہے ۔