اسلام آباد ۔ 11 نومبر (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں معاشی صورتحال مستحکم ہوئی ہے اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے‘ اس وقت حکومت کی توجہ عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے‘ معاشی استحکام کو مزیدمستحکم کرنا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کیلئے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ تیل، گیس اورمعدنیات کے شعبوں میں صوبوں کی استعداد کار بڑھانے کے ضمن میں وفاقی حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و شماریات مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، مشیرتجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین، متعلقہ محکموں کے وفاقی سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) انور علی حیدر و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام کو مزیدمستحکم کرنا اور سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کیلئے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ معدنیات اور کان کنی کے شعبوں کے فروغ پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ تیل، گیس اورمعدنیات کے شعبوں میں صوبوں کی استعداد کار بڑھانے کے ضمن میں وفاقی حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور مستقبل کے تخمینوں کے حوالے سے مربوط منصوبہ بندی کے حوالے سے وزارتِ فوڈ سیکیورٹی میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر جامع منصوبہ بندی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں اس سے نہ صرف طلب و رسد کا فرق ختم ہوگا بلکہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اجلاس میں معاشی صورتحال بالخصوص ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کا فروغ، بڑے صعنتی یونٹس کے لئے مراعات، ہسپتالوں کے لئے آلات و مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد، تیل، گیس اور معدنیات کے شعبے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، ملک میں چینی کی قیمتوں میں کمی لانے اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د نے اجلاس کو ہسپتالوں کے لئے آلات و مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں تمام ضروری مراحل کو آئندہ پندرہ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم کو بڑے صنعتی یونٹس کو دی جانے والی مراعات کے حوالے سے مختلف اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے اجلاس کو آگاہ کیاکہ 15دسمبر تک بارہ نئے بلاکس کو ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے لئے نیلامی کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے مختلف ممالک میں روڈ شوز و دیگر تشہیری تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بارہ بلاکس کی نیلامی سے خاطر خواہ سرمایہ کاری متوقع ہے۔ تاجکستان۔ افغانستان۔ پاکستان۔ ایران گیس پائپ لائن اور پارکو کوسٹل ریفائینری کے قیام کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کے حوالے سے موثر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اس ضمن میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو بنیادی اشیا کی فراہمی کے لئے چھ ارب جاری کرنے کے فیصلے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چینی کے ذخائر اور دستیابی کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں پر بریفنگ دی۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیرِ اعظم کو معیشت کی مجموعی صورتحال اور اقتصادی اعشاریوں میں ہونے والی بہتری پر بریفنگ دی گئی۔