اسلام آباد ۔ 17 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی واضح ہدایت تھی کہ حکومت نواز شریف کے علاج معالجے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے عطاتارڑ سے 2 دن تک میراتھن ڈسکشن ہوتی رہی،حکومت کو ایسی گارنٹی درکار تھی کہ نواز شریف علاج کے بعد واپس وطن آئیں گے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے پورے سیاسی کیریئر میں اس کیلئے جہدوجہد کی، انہوں نے ہمیشہ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا، وہ پاکستان میں شخصیات کو نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے قانونی اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کیلئے ون ٹائم اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر جرمانے عدالت نے عائد کئے تھے اور حکومت چاہتی تھی کہ ن لیگی قیادت ضمانت کے طور پر شورٹی بانڈ، حلف نامہ یا کوئی ایسی انڈرٹیکنگ دے جس سے یہ یقین ہو سکے کہ نواز شریف علاج کے بعد واپس وطن آئیں گے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پہلے بھی وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو علاج کیلئے باہر جانے کیلئے ون ٹائم اجازت دی تھی، اب بھی قانونی ٹیم عدالتی فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور کابینہ ہی اس پر اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے جب بھی بیرون ملک گئے ، واپس نہیں آئے جس کی وجہ سے حکومت نے ان سے انڈیمنٹی بانڈ جمع کرانے کو کہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ن لیگی قیادت نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ہمیشہ عدلیہ پر الزام تراشی کی، انہیں جن عدالتوں سے ریلیف ملتا ہے ان کیلئے ان کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور جو عدالتیں انہیں سزائیں دیتی ہیں ان کیلئے ان کے الفاظ کا چنائو کچھ اور ہوتا ہے لیکن اب نواز شریف کو یقین ہو جانا چاہیے کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے عدالت جا کر اپنے لئے ہی مشکلات کھڑی کر دی ہیں، اگر نواز شریف علاج کے بعد واپس نہیں آتے تو انہیں عدالت کی جانب سے مجرمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔