اسلام آباد ۔ 14 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ترقی و خوشحالی کے لئے نجی شعبہ کا فعال ہونا اور امیر طقبہ کی اپنے ملک میں سرمایہ کاری ضروری ہے، موجودہ عالمگیریت کے دور میں کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا، ترقی و خوشحالی کے لئے تزویراتی شراکت داری بنیادی شرط ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام بین الاقوامی امن و ترقی کانفرنس کے ابتدائی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کی ۔ مشیر خزانہ نے سعودی عرب، چین اور ترکی کے علاوہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ چند عشرے قبل ان ممالک نے جب ترقی کے سفر کا آغاز کیا اس وقت انہیں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن باہمی اشتراک کے فارمولے پرعمل پیراہوتے ہوئے ان ممالک نے ترقی کی۔ سعودی عرب جسے صرف مذہبی لحاظ سے مقدس مقام کے اعتبار سے جانا جاتا تھا اسے بھی ترقی کے لئے دیگرممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا پڑا اور آج دنیا ان ممالک کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں صحیح معنوں میں ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری وقت کی ضرورت تھی لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بعض ممالک کے ہاں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان کے یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان کم رہا اور آج بھی ترقی پذیرممالک پر صحیح معنوں میں انسانی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ دیگرممالک کو ان کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی حالات کی دگرگو ںصورتحال کی وجہ سے آج ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا اس کے لئے تزویراتی شراکت داری اہم ہوتی ہے جو امن اور ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی و خوشحالی کے لئے کسی بھی ملک کے نجی شعبہ کا فعال ہونا ضروری ہے کیونکہ جب تک امیر طقبہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا اس وقت تک ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے لئے عالمی بنک، اے ڈی بی اور دیگر اداروں کے پاس اربوں ڈالر کا سرمایہ موجود ہے۔ ہمیں ایسی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی جن سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو ترغیب دی جا سکے۔ امیر لوگ ملک میں سرمایہ کاری کریں گے تو ملک ترقی کرے گا پیسہ کہاں لگایا جائے اس کا فیصلہ بنک کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پیسے کا کوئی ملک نہیں ہوتا، بلکہ جہاں سازگار ماحول ہووہاں چلا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری منزل سرمایہ کاری کیلیے آزادانہ اور سازگار پالیسی ہے ۔اس موقع پر تقریب کے صدر نشیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ اس خطے میں ترقی کے لئے افغانستان میں امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔18 سال سے جاری جنگ کی وجہ سے پورا خطہ ترقیاتی مواقع سے محروم رہا ہے۔پاکستان،افغان مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے جس سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا،پاکستان نے توانائی کے شعبے میں علاقائی تجارت کے فروغ پر خاطر خواہ توجہ دی ہے، جس کے لئے ہمیں بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا اس اقدام سے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں ای کامرس اور ڈیجیٹل اکانومی پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، ہمیں بھی چین کی طرز پر آر اینڈ ڈی اور جدید شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق چین کا ایک سال کا آر اینڈ ڈی بجٹ 350 ارب ڈالر ہے۔پاکستان کا نجی شعبہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے نجی شعبہ کے فروغ اور اشتراک کار سے ان صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف ملک بلکہ خطے میں معاشی استحکام کا باعث ہوگا۔ خسرو بختیار نے کہا کہ ہماری حکومت سے قبل سی پیک صرف ایک راہداری تھی ہم نے اصلاحات اور اقدامات کے ذریعے طورخم سے چمن تک اس راہداری معاشی راہداری میں تبدیل کر دیا ہے۔ جس سے مقامی تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ترغیب مل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان بہتر معاشی پالیسیوں کی بدولت معاشی ترقی ممکن ہو گی۔جس کے لئے حکومت نے راستے متعین کر دیئے ہیں۔ سی پیک کے تحت چین کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی شراکت داری کی پیش کش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی کے زریعے معاشی استحکام کے پائیدار مواقعوں کا حصول ممکن ہو گا جس پر توجہ دینا ہوگی۔تقریب میں ایم ڈی اے پی پی طارق خان، غیر ملکی مندوبین و سفارتکاروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔