اسلام آباد ۔ 14نومبر(اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ آئی سی ٹی چائلڈ پروٹےکشن ایکٹ 2018ءبھی نافذ العمل کردیا گیا ہے، بچوں کے کسی قسم کی پریشانی بارے بات کرنے کی صورت میں اساتذہ اور والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو بچوں سے بدسلوکی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی مہم کے سلسلہ میں سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کے دورہ اور لیکچر کے دوران کیا۔ انہوں نے طلباءوطالبات کو لیکچر دیا اور طلباء، والدین اور بچوں کو جنسی بدسلوکی سے بچاو¿ بارے معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے طلباءوطالبات کو اچھی نیت اور ب±ری نیت سے چھونے کے بارے میں جاننے کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ انسانی حقوق کی وزیر نے زوردے کر کہا کہ بچوں کے کسی قسم کی پریشانی بارے بات کرنے کی صورت میں اساتذہ اور والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ بدسلوکی کی کوشش بارے بتانے کے لیے بھی والدین اور اساتذہ کو طلباءوطالبات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ والدین کو بچوں کے جذبات واحساسات سمجھنے کے لیے انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ بتانا ہوگا۔ دریں اثناءبچوں، اساتذہ اور والدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے بچوں سے بدسلوکی بارے آگاہی اور حساسیت پیدا کرنے کے سلسلہ میں وزارت انسانی حقوق کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر سکول کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں سے بدسلوکی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ایسے زیادہ تر کیسز رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔وفاقی حکومت دستیاب تمام ممکنہ ذرائع سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی خواہاں ہے۔ حکومت نے بچوں کو استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے کریمنل لاء(دوسرا) ترمیمی ایکٹ 2016، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ایکٹ2017 ءنافذ العمل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی ٹی چائلڈ پروٹےکشن ایکٹ 2018ءبھی نافذ العمل کردیا گیا ہے۔ مزید برآں وزارت انسانی حقوق نے انسانی اور بچوں کے حوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو قانونی مشورے دینے کے لیے ٹال فری ہیلپ لائن 1099بھی قائم کردی ہے۔