وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک علاج کے لئے جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا بلکہ انہیں ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے، وہ 7 ارب روپے کا شورٹی بانڈ جمع کرا کر بیرون ملک جا سکتے ہیں، وکلائ، ڈاکٹروں کی رائے اور عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کو میاں شہباز شریف نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے درخواست دی تھی اور اس کے ساتھ شریف میڈیکل سٹی کی میڈیکل رپورٹس لگائی گئی تھیں، ای سی ایل سے نام نکالنا وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا کام ہے، ذیلی کمیٹی نے اس درخواست پر تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے شریف میڈیکل سٹی، سرکاری میڈیکل بورڈ، وکلاء کی رائے لی جبکہ عدالتی فیصلوں کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کی صحت انتہائی خراب ہے، ان کو پیچیدہ بیماریاں ہیں جن کا علاج صرف بیرون ملک ہی ممکن ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ کمیٹی نے نواز شریف کی صحت کی صورتحال سے متعلق وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان اور کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ انہیں ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے تاہم ان کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لئے ان سے شورٹی بانڈ بھی لیا جائے۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہم اس حوالے سے حکم نامہ جاری کر دیں گے تاہم یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق اگر کوئی مجرم ہے تو اس کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا لیکن جرمانے کی ادائیگی کی صورت میں اسے ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی مثالیں موجود ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا بھی ایک فیصلہ ہے کہ ہر مقدمے کے حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف سے شورٹی بانڈ مانگنا ضمانتی بانڈ نہیں ہے، ضمانت دینا عدالتوں کا کام ہے، حکومت قانون کے مطابق شورٹی بانڈ لے سکتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ نواز شریف جلد صحت یاب ہو کر وطن واپس آئیں۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت نے میاں نواز شریف کی صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے اور اس میں تمام فریقوں سے مشاورت کر کے شفافیت یقینی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مجرم کے بیرون ملک جانے کی صورت میں اس کی وطن واپسی یقینی بنانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ نواز شریف کی وطن واپسی کے لئے یقین دہانی مانگنا سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قانونی ضرورت ہے، نواز شریف شورٹی بانڈ جمع کرا کر جہاں چاہیں علاج کے لئے جا سکتے ہیں، ان کی ضمانت کے چھ ہفتے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف وزارت داخلہ کو شورٹی بانڈ جمع کرا دیں تو وہ فوری طور پر ان کے بیرون ملک جانے کا اجازت نامہ جاری کر دے گی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ نواز شریف کو میگا کرپشن کیس میں سزا ہو چکی ہے جبکہ چودھری شوگر ملز سمیت دیگر مقدمات چل رہے ہیں، ان کی صحت یابی کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف مقدمات کی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جس ملک میں بھی علاج کے لئے جائیں گے، کوشش کریں گے کہ اس ملک سے بھی اس صورتحال پر بات کی جائے گی کہ ان کو مشروط طور پر علاج کے لئے بھیجا جا رہا ہے، حکومت کو کسی بھی سیاسی جماعت کی بجائے اس طرح کے مقدمات میں اسی طرح کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے کہ انہیں بیرون ملک علاج کے لئے بھیجا جائے اور ان کی وطن واپسی بھی یقینی بنائی جائے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ وطن واپس آ کر سیاست کریں، سابق صدر پرویز مشرف جب بیرون ملک گئے تو وہ مجرم نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی لوگوں نے بیرون ملک جانے کے لئے شورٹی بانڈ دیئے ہیں، رقوم کی پوری ادائیگی کی ہے اور پلی بارگین بھی کی ہے۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم نواز شریف کی صحت کی صورتحال کو دیکھ کر ان کو ایک بار بیرون ملک جانے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، اسے سیاسی مسئلے کا رنگ نہیں دینا چاہیے، یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ این آر او نہیں بلکہ خالص انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آصف زرداری کی جانب سے ان کے پاس کوئی درخواست نہیں آئی، اگر کسی اور فورم پر انہوں نے کوئی درخواست دی ہے تو وہی اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے، کابینہ کمیٹی کی ذمہ داری کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے ہے جو شخص بھی ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے درخواست دیتا ہے، کمیٹی اس پر غور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون کے پابند ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف چار ہفتوں میں صحت یاب نہ ہونے کی صورت میں مزید توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں، اس تناظر میں اس وقت کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔