اسلام آباد ۔ 11 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے طریقہ کار پر عمل ہورہا ہے، آصف زرداری کے اہل خانہ میڈیا پر بیانات کی بجائے قانونی راستہ اختیار کریں، ضلعی عدالتوں کی حالت زار سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا ہے، وزیراعظم نے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، مولانا فضل الرحمن کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں اور ان کے کھلاڑی گرائونڈ میں موجود ہیں لیکن نڈھال ہو چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے مالی وسائل کا ہونا ضروری ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کی حالت زار سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا۔ اس بات پر متفق ہیں کہ ضلعی عدالتوں کی حالت خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی میں وکلاء کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی سائلین اور عدالتوں سے منسلک دوسرے فریقین کی تجاویز حکومت کو پیش کرے گی۔ حکومت ہر شعبے میں اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں اور نیب کی ہدایات پر کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نکالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے طریقہ کار پر عمل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نیب کے ملزم ہیں۔ حکومت پرائیویٹ کی بجائے سرکاری میڈیکل بورڈ کی تجاویز قبول کرتی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اگر آصف زرداری بیمار ہیں تو وہ طریقہ کار کے تحت درخواست دیں اور ان کے اہل خانہ میڈیا پر بیانات کی بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت خواہشات پر نہیں چلتی بلکہ آئین اور قانون پر عمل کرتی ہے، پرویز مشرف کے ٹرائل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں بھاری بھرکم معاوضے پر وکلاء کا گروپ تشکیل دیا گیا جس گروپ کو وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آفس بھی تسلیم نہیں کرتا جبکہ قومی خزانہ بھی اتنے بھارتی اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے فل ٹاس گیندوں پرکریز سے نکل کر چھکے لگائے، ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ ان کے کھلاڑی گرائونڈ میں موجود ہیں لیکن نڈھال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے مقام کے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی آزادانہ زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے۔ ان کے بچوں کو بھی سکول جانا چاہیے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کارکنان کھلے میدان جبکہ مولانا آرام دہ بسترمیں ہیں جو کہ کھلا تضاد ہے۔ فردوس عاشق نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اپوزیشن چار سال بعد انتخابات کا انتظار کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر میرٹ پر ضمانت دی ہے۔ میڈیکل بورڈ میں ماہر ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔