سٹیٹ بینک نے بینکوں کو اشیاء ساز اداروں کے لئے لیٹر آف کریڈٹ پر درآمدات کی 50 فیصد تک مالیت کی پیشگی ادائیگی کی اجازت دیدی

اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو اشیاء ساز اداروں کے لئے لیٹر آف کریڈٹ(ایل سی) پر درآمدات کی 50 فیصد تک مالیت کی پیشگی ادائیگی کی اجازت دیدی ہے ۔ اس سہولت کے تحت اشیاء ساز ادارے پیشگی ادائیگی کر کے پلانٹ، مشینری، فاضل پرزہ جات اور خام مال وغیرہ درآمد کر سکیں گے۔سٹیٹ بنک لہ جانب سے جاری بیان کے مطابق قبل ازیں جولائی 2018ء میں فارن ایکس چینج میں دبائو اور توازنِ ادائیگی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے پیشگی ادائیگی کی سہولت درآمد کنندگان سے واپس لے لی تھی۔ بعد میں دوائوں، تعلیم اور دفاع جیسے اہم شعبوں سے متعلق درآمدات کو سہولت دینے کے لئے بعض پابندیاں نرم کر دی تھیں جبکہ بیشتر پابندیاں برقرار ہیں۔ مئی 2019ء میں مارکیٹ پر مبنی ایکس چینج ریٹ سسٹم کے نفاذ کے بعد فارن ایکس چینج مارکیٹ میں دبائو کم ہوا ہے اور ادائیگیوں کے توازن میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ایکس چینج ریٹ میں اصلاحات پر عملدرآمد کے بعد فارن ایکس چینج مارکیٹ میں اس بہتری کے سبب اسٹیٹ بینک نے درآمدات پر سے وہ پابندیاں نرم کم کرنا شروع کی ہے جو پہلے نافذ کی گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے نومبر 2019ء میں اشیاء ساز اداروں کو صرف اپنے استعمال کے لئے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد کے لئے فی انوائس دس ہزار ڈالر تک پیشگی ادائیگی کی اجازت دی تھی۔ اس وقت سٹیٹ بینک نے بیرون ملک سے خدمات مثلاً کنسلٹنسی خدمات کے حصول پر پابندیاں بھی نرم کی تھیں۔ نیااقدام اشیاء سازی کے شعبے کے لئے معاون ہو گا اور وہ پلانٹ، مشینری، فاضل پرزے اور خام مال اور متعلقہ اشیاء درآمد کر سکیں گے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ زرمبادلہ اور اقتصادی منظر نامے میں بہتری کی روشنی میں سابقہ پابندیاں ہٹانے کے لئے اور کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرنے کے لئے کر رہا ہے۔