اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایوان میں آزادی رائے کے حوالے سے غلط بیانی کی ہے، ایوان میں غلط بیانی پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرتی ہے، پاکستان میں ہر شہری کو آزادی رائے کا مکمل حق حاصل ہے، چند عناصر صحافتی آزادی کی آڑ میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، وزیراعظم نے صحافتی شعبے کو درپیش مستقبل کے چیلنجز کو حل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، عالمی معاشی ادارے پاکستان کی معیشت کے استحکام کی نوید سنا رہے ہیں،یونیورسٹیز کو اسلحہ اور منشیات سے پاک کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صحافیوں کے مسائل سے متعلق ایوان میں بات ہوئی اس حوالے سے اپوزیشن نے حقائق کو مسخ کرکے جس طرح کے اعداد وشمار دیئے ہیں کہ پاکستان میں آزادی صحافت پر پابندیوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،یہ ایک تاثر کئی ماہ سے دیا جارہا ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا پر یہ ایک زہریلہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے تنگ ہو رہا ہے اور موجودہ حکومت صحافیوں کا گلہ گھونٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس طرح کے پرپیگنڈے سے نمٹنے کے لیے میری ذمہ داری لگائی ہے ۔ اس لئے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں ہر شہری کو آزادی رائے کا مکمل حق حاصل ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے سیاحت کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی ہے اور پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، حکومت کی موثر پالیسیوں کی بدولت عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کے استحکام کی نوید سنا رہے ہیں، موڈیز پاکستان کی معیشت درست سمت میں جاتے دیکھ کر پیشنگوئی کر رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مشکل سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور موجودہ حکومت کو معیشت سمیت کئی شعبوں میں چیلنجز کا سامنا رہا لیکن اب پاکستان کی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں وہ اپنے علاج اور ضمانتوں سے پریشان ہیں ، وہ اسی معیشت کو وینٹی لیٹر پر چھوڑ کر گئے تھے ان کی کارستانیوں نے ملک کو قرضوں میں جھکڑا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا کا 85 فیصد کاروبار پرائیویٹ سیکٹر سے جڑا ہے ، وزیراعظم نے میڈیا ورکر کے مسائل میڈیا مالکان کے سامنے رکھے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے صحافتی شعبے کو درپیش مستقبل کے چیلنجز کو حل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے، چند عناصر صحافتی آزادی کی آڑ میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں،وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میںصحافتی نمائندوں کی تنظیموں کے اراکین شامل ہونگے جن میں اے پی این ایس کے صدر،پاکستان براڈکاسٹنگ کے چیئرمین،سی پی این اے کے نمائندے اور اس کے ساتھ پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر اور سٹیک ھولڈر بھی اس شعبہ سے وابستہ ہیں ان کے نمائندے بھی شامل ہوں گے اور میںکمیٹی میں فوکل پرسن کا کردار ادا کروں گی جبکہ وزیراعظم خود اس کمیٹی کی سر براہی کریں گے اور اس سے حکومت میڈیا مالکان کے لیے پل کا کردار ادا کرے گی،میڈیا مالکان کے حکومت کے ذمہ جو بقایا جات ہیں اس مسئلہ کو بھی حل کرنے جارہے ہیں جو میڈیا مالکان کے درمیان خلاء کو کم کرنے کے لیے معاون ثابت ہوگا جبکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ حکومت اور صحافتی برادری کے درمیان دوستانہ میچ میں تبدیل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بلاوجہ پروپیگنڈہ کرنے والوں سے پوچھیں کہ آزادی صحافت سے کیا مراد ہے اور ان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کریں کہ وہ کون سی ریاست ہے جہاں آپ کی آواز کو دبایا جاتا ہے تو پھر ریاست کون سی ہوتی ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم شہریوں کے حوالے سے انسانی حقوق کمیشن کی آواز سننے کے لیے ہمارے کان ترستے ہیں اس کمیشن نے معنی خیز خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے جبکہ میڈیا کے توسط سے تمام گرویدہ صحافی صحافت کی آزادی کے لیے کیوں پریشان اور گرویدہ ہیں اور وہ پر آسائش ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ذاتی مفاد کے گرویدہ ہیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں حکومت سے مل بیٹھ کر اپنے تحفظات گلے شکوے کا تدارک کریں۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایوان میں ایک ساتھی نے انفارمیشن کمیشن سے متعلق غلط بیانی کی، ان کی غلط بیانی اور لاعلمی پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ، انفارمیشن کمیشن کو متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ ایوان میں غلط بیانی پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرتی ہے۔بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت کچھ لوگ ملکی معیشت سے متعلق غلط بیانی کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حسان نیازی کے گھر پر گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں لیکن وہ ایف آئی آر کا حصہ نہیں ہیں ، وہ حفیظ اللہ نیازی کے صاحبزادے ہیں قانون کی گرفت سے پھر بھی نہیں بچ سکتے ، انہوں نے جو بویا وہ کاٹیں گے ، ریاست کے بازوں میں طاقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان اور ورکرز کے درمیان خلیج کو کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے قانون کو طاقتور بنایا ہے، طاقتور قانون سے پاکستان کو طاقتور بنائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آصف زرداری کے انٹرویو کو روکنے کے حوالے سے متعلقہ چینل سے پوچھا جائے ، چینل کی مرضی ہے کہ وہ انٹرویو کو چلائے نہ چلائے، اسے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے دونوں فریقوں کو آمنے سامنے بٹھا کر مسئلہ کو حل کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے ،جو صحافتی گاڑی کے پہیہ ہیں ، حکومت اس کا انجن ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء یونینز سیاستدانوں کی نرسری کا کردار ادا کرتی ہیں ، طلباء یونینز سے جرائم پیشہ عناصر کو نکالنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والاواقعہ افسوسناک ہے ، وزیراعظم اس مسئلہ سے آگاہ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یوتھ کی صلاحیتوں کو درست سمت پر گامزن کرنے کے لیے یونین کردار ادا کر سکتی ہیں ، کچھ ضابطہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء یونین سے جرائم پیشہ اور اسلحہ سے لیس اور منشیات کا خاتمہ کیا جاسکے۔