اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بچے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، معاشرے کے مستقبل کے خلاف جرائم اور خصوصاً معصوم بچوں کا جنسی استحصال پورے معاشرے کے لئے باعث شرم اور افسوس ناک ہے، بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گی، وزیراعظم نے وزارتِ انسانی حقوق کو بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور معاونت سے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو بچوں سے متعلقہ جرائم خصوصاً بچوں کے جنسی استحصال کی مؤثر روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، صوبائی آئی جیز اور وزارتِ داخلہ و صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسران شریک تھے۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ملک میں بچوں کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی استحصال، بچوں سے متعلقہ فحش مواد، حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چند افسوس ناک واقعات اور ایسے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے انتظامی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب نے اجلاس کو زینب کیس، چونیاں کیس اور راولپنڈی کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق، صوبہ پنجاب میں بچوں سے متعلقہ جرائم کی شرح اور قصور اور چونیاں جیسے اندوہناک واقعات کو کیس سٹڈی کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے ان کی مؤثر روک تھام کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اجلاس میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے قانونی، سماجی و معاشرتی، اقتصادی و دیگر عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اوران واقعات و جرائم کی روک تھام کے حوالے سے وفاق اور صوبائی سطح پر اب تک کیے جانے والے اقدامات پر غورکیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایسے سنگین جرائم اور بچوں کی گمشدگی کے واقعات کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ڈی این اے رپورٹس کے جلد حصول کے لئے نظام کو بھی مزید منظم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ان کی ہدایت کے مطابق ”اپنا بچہ” اپلیکیشن تیار کی جاچکی ہے تاکہ گم شدہ بچوں کی فوری رپورٹ تمام آئی جیز اور سینئر حکام تک پہنچائی جاسکے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، معاشرے کے مستقبل کے خلاف جرائم اور خصوصاً معصوم بچوں کا جنسی استحصال پورے معاشرے کے لئے باعث شرم اور افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، معاشرتی عوامل اور مختلف مجبوریوں کے باعث اکثر والدین ایسے جرائم کی پولیس کو بر وقت اطلاع یا مقدمات کے اندراج سے احتراز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جہاں ایسے جرائم میں ملوث مجرمان قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں وہاں متاثرہ بچوں اور بچیوں کی زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ داخلہ میں جرائم کے حوالے سے اور خصوصاً بچوں سے متعلقہ جرائم میں ملوث افراد کا قومی سطح پر نیشنل کرائم ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا۔ یہ ڈیٹا بیس وفاق اور صوبائی حکومتوں کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دستیاب ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور معاونت سے قومی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دی جائے تاکہ جہاں بچوں سے متعلقہ فحش مواد کے خلاف قومی سطح پر کریک ڈاؤن شروع کیا جاسکے وہاں ایسے جرائم کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرزکو ٹائم لائنز کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی جاسکیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ سائبر کرائمز سے متعلقہ مقدمات اور شکایات کا جلد از جلد ازالہ ممکن بنایا جاسکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قوانین کو مزید موثر کرنے کے لئے بھی سفارشات پیش کی جائیں تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور بچوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بچوں سے متعلقہ جرائم کے مقدمات کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے اور متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو کسی رسوائی یا دقت سے بچانے کے لئے بھی سفارشات پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ روک تھام اور تحفظ سے متعلقہ اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم سے متاثرہ بچوں کی بحالی کے پہلو پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ اور ان کو جنسی جرائم سے محفوظ رکھنے کے لئے سول سوسائٹی اور خصوصاً میڈیا بھرپور کردار ادا کرے تاکہ جہاں بچوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے وہاں بچوں کے والدین اور کمیونٹی کی سطح پراس ضمن میں زیادہ آگا ہی اور شعور بیدار کیا جاسکے۔