استنبول ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پورے خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے محفوظ اور مستحکم افغانستان کے مقصد کے حصول کی ضرورت ہے،کوئی اور ملک یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کے افغانستان کے ساتھ وہ تاریخی اور مضبوط تعلقات استوار ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہیں اور نہ ہی دنیا میں کسی اور ملک کو افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کی اتنی شدید خواہش ہوگی جس قدر پاکستان کو ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے استنبول میں ’ہارٹ آف ایشیائ‘کی آٹھویں وزارتی کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ ’ہارٹ آف ایشیائ‘ استنبول پراسیس کے تحت یہ کانفرنس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہاکہ کوئی اور ملک یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کے افغانستان کے ساتھ وہ تاریخی اور مضبوط تعلقات استوار ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہیں اور نہ ہی دنیا میں کسی اور ملک کو افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کی اتنی شدید خواہش ہوگی جس قدر پاکستان کو ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی اور افغانستان کی تعمیر نو اور اس کی ترقی کے لئے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ افغانستان کی تعمیر نو اور اس کی ترقی میں معاونت کے لئے پاکستان ایک ارب امریکی ڈالر کے مالی وسائل بھی بروئے کار لایا ہے۔ انہوں نے افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن وبھائی چارے (اے پی اے پی پی ایس) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں یہ اہم ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔ وزیرخارجہ نے افغانستان میں امن اور استحکام کے حصول کے لئے مذاکرات بحالی کی حالیہ کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کی اس خواہش کااظہارکیا کہ امن عمل کا نتیجہ بین الافغان جامع مذاکرات کی صورت برآمد ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس موقع پر ”شرپسندوں“ سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ علاقائی اور عالمی اتفاق رائے کے ذریعے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ وزیرخارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی خوشگوار تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے ترک حکومت اور عوام کے لئے پرجوش خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک وزیر خارجہ میولت کاواس اولو سے بھی ملاقات کی۔