واشنگٹن۔ 21 جنوری (اے پی پی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) نے رواں اور آئندہ سال (2020,21 ئ) عالمی اقتصادی شرح نمو کے اندازے میں کمی کرتے ہوئے بالترتیب 3.3 اور 3.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کردیا،آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ چین امریکہ تجارتی کشیدگی نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا جسے بھارت کی تیزی سے گرتی معیشت مزید خراب کررہی ہے، تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مفاہمت جاری رہی تو عالمی اقتصادی شرح نمو بہتر ہوسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔کرسٹینا جارجیوا نے کہا کہ چین امریکہ تجارتی کشیدگی سے 2019 ءکے دوران عالمی اقتصادی شرح نمو بری طرح متاثر ہوئی تاہم حالیہ تجارتی معاہدے پر عمل جاری رہا تو عالمی معیشت میں بہتری کے آثار ہوسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بھارت میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث اس کی اقتصادی شرح نمو تیزی سے متاثر ہورہی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں اور آئندہ سال (2020,21 ئ) عالمی اقتصادی شرح نمو بالترتیب 3.3 اور 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے، اس سے قبل رپورٹ میں دونوں سالوں کی اقتصادی شرح نمو 3.4 اور 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، اس اندازے میں کمی کی اہم وجہ بھارتی معیشت کی موجودہ غیر یقینی صورتحال بھی ہے۔