اقوام متحدہ ۔ 18 جنوری (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ جنوب کے جنوب سے تعاون کی روشن مثال ہے ، اربوں ڈالر مالیت کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) باہمی تعاون کی روشن مثال ہے جس کا مقصد ترقی اور معیشت کے مشترکہ اہداف کا حصول ہے ۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ میں چین اور ترقی پذیر ممالک کے ایک بڑے بلاک جی 77کی چیئرمین شپ کی تبدیلی کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ گیانا کو 134ویں ممبر اتحاد کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ فلسطین اس کا سابقہ چیئرمین تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو جنوب کے جنوب سے تعاون کو ضرورت مستحکم کرنا چاہئے تاکہ نئے مواقع تلاش کر کے دنیا کو ترقی کے متبادل ماڈلز پیش کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور معیشت کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے باہمی عزت اور احترام ، مشترکہ مفادات اور اقتصادی آزادی کیلئے کاوشوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ منیر اکرم نے کہا کہ سی پیک جنوب کے جنوب سے تعاون کی ایک روشن مثال ہے جس سے نہ صرف سی پیک میں شامل ممالک مستفید ہونگے بلکہ خطے سمیت پوری دنیا اس سے استفادہ کرے گی۔ عالمی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کثیر الجہتی اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر مختلف معاہدوں اور قوانین کے علاوہ بھی عالمی اشتراک کار میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ طاقت کا استعمال اور غیر ملکی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے ، جس کی وجہ سے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے لوگوں کا حق خودارادیت بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے اختلافات کی وجہ سے عالمی معیشت سست روی کا شکار ہے ، جس سے غربت کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل جیسے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ منیر اکرم اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں فی کس آمدنیوں میں اضافہ کے باوجود عدم مساوات اور طبقاتی تفریق میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے موجودہ نظام سے معاشی خوشحالی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی تک غربت اور عدم مساوات کے مسائل ختم نہیں کئے جا سکے ۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ عدم مساوات اور عالمی اقتصادی نظاموں کی وجہ سے دنیا کو خطرات در پیش ہیں۔ انہوں نے جی 77کے کردار پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ چین سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کو باہمی ترقی اور معاشی خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے کی جانے والی کاوشوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔