ڈیووس ۔ 23 جنوری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تباہی ہو گی، جنگیں مسائل حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کرتی ہیں۔ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر سی این بی سی کے ہیڈلے گیمبل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ تباہ کن ہو گی، یقین کریں کہ ایران کا تنازعہ افغانستان کے مقابلے میں انتہائی مشکل ہو گا۔ وزیراعظم نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے لئے آمادگی کو ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 19 سال گزرنے کے باوجود افغانستان کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا اور فریقین امن مذاکرات جاری رکھنے اور فائر بندی کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اب بھی لوگ مر رہے ہیں، ایک کھرب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں تو کیا امریکہ مزید کسی تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو فوجی حل پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، آپ ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لئے فوج استعمال کریں گے تو پانچ دیگر مسائل جنم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ ترقی پذیر ممالک کے لئے تباہ کن ہو گی، تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں گی اور ہمارے جیسے ملک جو اپنے بجٹ متوازن بنانے کے لئے کوشاں ہیں ان کے لئے مسائل بڑھیں گے اور غربت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قتل و غارت اور جنگ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دنیا میں ہمیشہ تشدد کی وجہ بنتے ہیں۔ وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہندتوا کے متشدد نظریئے کے زیر تسلط ہے جو ہندو بالادستی کا حامل ہے، ایسے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ مسئلہ کا کیا حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے آئینی ترمیم کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب اور خطہ کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کر کے 80 لاکھ لوگوں کو محاصرے میں رکھنے کے علاوہ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی قانون نافذ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ صورتحال خطے کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے، عالمی برادری بھارتی عزائم کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو دنیا کے طاقتور ترین صدر کی حیثیت سے معاملے میں مداخلت کرنے کا کہا ہے۔ ثالثی کے لئے اپنی کوششوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ ہمیشہ امن کا شراکت دار بننے کے خواہشمند رہے ہیں کیونکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا۔ اپنی حکومت کی معاشی کارکردگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہیں زبوں حال اور قرضوں میں ڈوبی معیشت ورثے میں ملی، ملکی معیشت مستحکم کرنے میں ایک سال لگا، مارکیٹ میں بہتری آئی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری ایک سال میں 200 فیصد بڑھی ہے اور اب ہم صارف یا درآمدات پر مبنی نمو کی بجائے برآمدات پر مبنی نمو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک میں سرمائے کی بڑھوتری کے لئے انڈسٹریلائزیشن کی بحالی کے لئے کوشاں ہے جس سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2003ء کے بعد 2019ء محفوظ ترین سال رہا ہے، اس کا اعزاز سیکورٹی فورسز کو جاتا ہے جنہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد جرائم پر قابو پانے اور عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ملک میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری کے نتیجہ میں سیاحوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے اور پاکستان کاروبار کے لئے محفوظ ملک بن گیا ہے۔ وزیراعظم نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اس وقت پاکستان کی مدد کی جب اسے شدید ضرورت تھی، ہم چین کے تعاون پر اس کے شکر گزار ہیں۔ مزید برآں چین پاکستان کو نوجوانوں کی تربیت میں معاونت کے علاوہ پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ٹیکنالوجی بھی فراہم کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی سیاسی جدوجہد 23 سال کے طویل عرصہ پر محیط ہے اور انہوں نے دو جماعتی نظام کے اندر سیاسی جدوجہد کے ذریعے جگہ بنائی ہے۔