ملتان ۔ 24 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نہیں چاہتاکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہرآئے ،بھارت توپاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلناچاہتاہے’ خوش آئندبات یہ ہے کہ آج ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں ہم نے جونکات رکھے انہیں بھارت کے سواتمام ممالک نے سراہااورپاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ۔جوکام پچھلے دس سال میں نہ ہوسکاوہ دس ماہ میں ہوگیا۔جمعہ کی شب ملتان سے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے امیدظاہرکی کہ فروری کے مہینے میں پیرس میں منعقدہونے والے اجلاس میں میرٹ کوملحوظ خاطررکھاجائے گااورپاکستان کو سیاست کانشانہ نہیں بنایاجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر ہواہے اور پاکستان 2020ء میں نمایاں مقام پر آگیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں اس حوالے سے افواہیں جلد دم توڑ جائیں گی۔ناراض اراکین نے فاروڈ بلاک کے بارے خود تردید کردی ہے، اراکین اسمبلی کے جائز مطالبات پورے کریں گے،حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت مافیا کا مقابلہ کررہی ہے۔وزیراعظم عمران خان مختلف شعبو ںمیں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیںلیکن مفاد پرست طبقہ راستے میں حائل ہے۔پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران مصنوعی ہے چند منافع خور مصنوعی بحران پیدا کررہے ہیں اس پر جلد قابو پالیں گے۔ذخیرہ اندوزوں کو شکست دینے کیلئے سیل پوائنٹ بنائے لیکن سیل پوائنٹ پر آٹا لینے والا کوئی نہیں۔انہوںنے کہاکہ تنقید مخالفین کا کام ہے، جنہیں تکلیف پہنچ رہی ہے وہ تنقید کررہے ہیں۔ ہم تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہمارے ناقدین نے تنقید کرنی ہے اور ہم میں تنقید سننے کا حوصلہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہاکہ برطانیہ کی ٹریول ایڈوائزری میں آنا پاکستان کی سیاحت میں مثبت پیش رفت ہے۔ دیگر ممالک بھی برطانیہ کی طرح ٹریول ایڈوائزری میں نظر ثانی کریں گے۔برٹش ایئر ویز نے پاکستان کے لئے پروازیں بحال کی ہیں۔ اس فیصلے سے پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے۔ لوگ پاکستان آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹریول ایڈوائزری ایک رکاوٹ تھی اس سے سیاحت میں رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔اقوام متحدہ نے پاکستان کو دوبارہ فیملی سٹیشن کا درجہ دے دیا ہے۔ ٹریول ایڈوائزری میں آنا پاکستان کی سکیورٹی اور معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے اس سے ملکی سیاحت کو فائدہ پہنچنے گا۔ وزیراعظم پاکستان کی خواہش ہے سیاحت کی بدولت پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا تو پاکستان میں نہ صرف روزگار میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔وزیراعظم کے حالیہ دورے کے بارے میں انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کا دورہ ڈیوس کامیاب رہا ہے۔ ڈیوس میں عمران خان کی بہترین نشستیں ہوئیں۔ غیر ملکی میڈیا نے وزیراعظم پاکستان کے دورے کو بھر پور کوریج دی۔ انہوں نے کہامقبوضہ کشمیر میں176دن سے کرفیو ہے۔ بھارتی عوام حکومتی اقدامات سے نالا ں ہیں۔ بھارتی عوام نے آر ایس ایس کی سوچ کو مسترد کردیا ہے۔ بھارتی حکومت اس وقت بے پناہ دبائو کا شکار ہے۔ بھارت میں کشمیری عوام اور طلباء سراپا احتجاج ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی موقف کی بھر پور تائید کی گئی ہے۔ معروف جریدے اکانومسٹ کاسرورق اس طرف اشارہ دے رہا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں بے نقاب ہو رہا ہے۔سکیورٹی کونسل کے اجلاسوں سے ثابت ہواکہ کشمیر عالمی مسئلہ ہے۔ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا ہوگا۔ 5اگست کے بعد کشمیر کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا۔ اس سال5فروری کو پورا پاکستان کشمیریو ںکے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا میرا ایران ‘ سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کامیاب رہا۔کوشش تھی کہ امریکہ ایران کشیدگی کم ہو۔ پاکستان ‘ سعودی عرب اور ایران میں غلط فہمیاں ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارے سعودی عرب اور ایران سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ امریکہ ایران کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔ ہم نے دونوں ممالک کو واضح کہا ہے کہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے پاک بھارت مسائل حل ہوں۔ امریکہ نے ایک بار پھر ثالثی کی کوشش کی ہے لیکن بھارت امریکی ثالثی کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہامہنگائی کو روکنے کیلئے بھر پور اقدامات کررہے ہیں۔ ہمارے اقدامات کی بدولت ڈالر میں ٹھہرائوآیا ہے اور روپیہ مستحکم ہوا ہے۔ ایکسپورٹ اور پروڈکشن میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے یوٹیلی سٹور کو 7 ارب کی سبسڈی دی ہے۔ شہریوں کو درپیش مسائل کا احساس ہے۔ کرپشن کے باعث ملکی معیشت اور ملک کو نقصان پہنچا۔ سابقہ ادوار میں پاکستانی سرمایہ غیر قانوی طریقہ سے باہر بھیجا گیا جس سے ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ کرپشن کاخاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا میڈیا اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ میڈیا کی اہمیت سے آگاہ ہیںاور ہمیں پتہ ہے میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے۔ ہم میڈیا کے ذریعے اپنی آواز عوام تک پہنچا رہے ہیںمیڈیا سے تعلق برقرار رہے گا۔