اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے سابق وزرائے اعظم محمد نواز شریف ، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدرمملکت آصف علی زرداری کے کیمپ آفس، سکیورٹی ،انٹرٹینمنٹ اورغیر ملکی نجی دوروں پر استعمال ہونے والے اربوں روپے ایک ماہ میں وصول کرنے اور صدر اور وزیرِ اعظم کی تنخواہوں اور مراعات کے قانون میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے، اس ترمیم کی رو سے اب صدر اور وزیرِ اعظم کی صرف ایک رہائشگاہ کو سرکاری رہائشگاہ کا درجہ دیا جائے گا اور جگہ جگہ کیمپ آفسز کے قیام اور ان پر سرکاری خزانے اور عوام کے پیسے سے اٹھنے والے اخراجات کی روک تھام کی جا سکے گی، آئندہ کسی پبلک آفس ہولڈر بشمول صدر اور وزیرِ اعظم کے لئے ڈیوٹی فری گاڑی کی سہولت نہیں ہوگی۔ کابینہ نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ 1973، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس2002 اور سنٹرل بورڈ آف فلم سینسرز موشن پکچرز آرڈیننس 1979 میں ترامیم اور مختلف اداروں میں تعیناتیوں کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں مہنگائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کی روک تھام کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی،کابینہ نے چینی کی قیمت میں اضافے کے رجحان کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چینی کی قیمت میں اضافے کی روک تھام کے لئے چینی درآمد کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے حتمی رپورٹ آنے پر گندم بحران کے ذمہ داران کے خلاف سخت کا رروائی کا عندیہ دیدیا ۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے سندھ میں انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے معاملے پر تفصیلی طور پر غور کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ ممبران کی آراءاور حکومت کے اتحادیوں کے تحفظات گورنر سندھ تک پہنچائے جائیں۔ کابینہ کی جانب سے گورنر سندھ کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ باہمی مشاور ت سے کسی بھی افسر کی بطور آئی جی تعیناتی پر اتفاق کریں تاکہ آئی جی کی تقرری کا فیصلہ کیا جا سکے۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 08جنوری کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی، کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 08جنوری 2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں اورکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 20جنوری 2020کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے جی آئی ڈی سی ہٹائے جانے کے حکومتی فیصلے کے ضمن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی بھی کابینہ نے توثیق کی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جی آئی ڈی سی ہٹائے جانے کے اس فیصلے کے بعد انڈسٹری کی جانب سے یوریا کی قیمت میں 395روپے کی کمی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ فائدہ کسانوں کو میسر آئے۔حکومتی اخراجات خصوصاً سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت پر عوام کے پیسے سے اٹھنے والے اخراجات میں کمی لانے کے لئے حکومت کا بڑا فیصلہ کیا گیا، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ ماضی میں عوا م کے پیسوں سے سابق حکمرانوں اور ان کے بچوں کی عیاشیوں پر اٹھنے والے سارے اخراجات کا پیسہ وصول کیا جائے گا ۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ صدر اور وزیرِ اعظم کی تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے قانون کی دیگر شقوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔ کابینہ نے نورالحق (ممبر فنانس) اوگرا کو وائس چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ ملک میں کم آمدنی والے افراد کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس اور چین کی معروف کمپنی چائنا گزہوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ ( China Gezhouba Group Company Limited)کے درمیان ایم او یو پر دستخط کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ کابینہ نے وزارتِ ہاﺅسنگ کو ہدایت کی کہ اس تجویزکا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ جہاں اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے وہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ضمن میں ٹائم لائن پر مبنی لائحہ عمل واضح ہو۔ کابینہ نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں کوریا سے تعلق رکھنے والی لوئٹے کمپنی جو کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں کام کر رہی ہے، کو ایک دفعہ کے لئے بھارت سے چالیس ہزار میٹرک ٹن پیرا زائیلین درآمد کرنے کی اجازت کی تجویز کے حوالے سے فیصلہ کیا کہ مشیر تجارت اس حوالے سے تمام موجود آپشنز پر غور کریں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پیرا زائلین ٹیکسٹائل کے شعبے میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہے۔ لوئٹے کمپنی نے بھارت سے ایک لاکھ چالیس ہزار میٹرک ٹن کی پیرا زائیلین کی درآمد کے لئے انتظام کیا۔ اب تک بیاسی ہزار میٹرک ٹن پیرا زائیلین درآمد کی جاچکی ہے لیکن اگست میں حکومت پاکستان نے بھارت سے ہر قسم کی تجارت روک دی جس کے نتیجے میں مزید درآمد رک گئی۔نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے چئیرمین اور ممبران تعینات کرنے کی سمری واپس لے لی گئی ۔ کابینہ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری-آرگنائزیشن( ایکٹ 1996کے سیکشن 27-Aکے تحت سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو Appropriate Government نوٹیفائی کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ 1973، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس2002اور سنٹرل بورڈ آف فلم سینسرز موشن پکچرز آرڈیننس1979میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔ ان ترامیم کا مقصد ان اداروں کے انتظامی معاملات کو آسان بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کے تحت ممنوعہ اور غیرممنوعہ اسلحہ لائسنسز کے اجراءکی تجویز پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت رولز تشکیل دیئے جائیں۔کابینہ نے اسلم خان کی پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ بورڈ میں بطور پرائیویٹ ممبر تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ کو ادارہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی، کابینہ نے نوید الہی ( پاکستان کسٹم سروس بی ایس 19) اور رانا شکیل اصغر (پاکستان آڈٹ اینڈ اکاﺅنٹس سروس ، بی ایس 20) کو سی ڈی اے بورڈ میں ممبر اسٹیٹ اور فنانشل ایڈوائزر/ممبر فنانس کی ذمہ داریاں (Look After Charge) دینے کی منظوری دی۔کابینہ کو معاشی صورتحال اور اقتصادی اعشاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو بتایاگیا کہ مالی سال 2019-20میں جولائی سے دسمبر کے اعدادو شمار کے مطابق کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 73فیصد کمی آئی ہے ۔ جولائی سے دسمبر تک اب تک کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 2.2 بلین ڈالر ہے۔ گڈز کی مد میں ٹریڈ بیلنس میں 39فیصد بہتری آئی ہے۔ برآمدات میں 4.5فیصد بہتری آئی ہے جبکہ درآمدات میں 21فیصد کمی آئی ہے۔ ریمٹینس (ترسیلات زر) میں پچھلے سال کے مقابلے میں 3.3فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فاریکس ریزرو گذشتہ سال کے مقابلے میں 31فیصد زیادہ ہیں۔ ایکسچینج ریٹ مستحکم رہا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ٹیکس کولیکشن میں گذشتہ سال کی مد میں 17فیصد بہتری آئی ہے۔ کابینہ کو پی ایس ڈی پی اور صوبائی سالانہ ڈویلپمنٹ پروگرام پر اب تک کی پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کابینہ کو کاٹن، گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار کے تخمینوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ سرمایہ کاری کے بارے کابینہ کو بتایا گیا کہ فارن انویسٹمنٹ (ٹوٹل) کی مد میں 381 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (نیٹ) کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ سال کی مد میں ایف ڈی آئی (نیٹ) میں 68فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے لحاظ سے دسمبر بہتر مہینہ ثابت ہوا ہے۔ کابینہ کو پالیسی ریٹ کی شرح کے ساتھ ساتھ بنکوں کی جانب سے مختلف شعبوں کو دیئے جانے والے قرضوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بنکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو کریڈٹ کی فراہمی میں 24 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ دسمبر میں 40735تک کی سطح تک پہنچ گئی تھی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 27جنوری 2020 کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ کابینہ نے کرونا وائرس کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ظفر مرزا نے کرونا وائرس کی صورتحال اور اس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے سلسلے میں حفاظتی اقدامات سے کابینہ کو آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ ملتان میں تین مریضوں میں کرونا وائرس کی موجودگی کے خدشے پر کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ ان مریضوں میں کرونا وائرس کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے ضمن میں چین نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چین کی حکومت کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان آنے والے تمام چینی باشندوں کو چودہ دنوں کے لئے کارنٹائین کیا جائے گا کیونکہ وائرس چودہ دنوں میں افزائش پاتا ہے اور ظاہر ہو جاتا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چین سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کی ائیر پورٹ پر جامع سکرینگ کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ملک کے معروف ڈاکٹروں کی مشاورت سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے کلینکل پروٹوکولز اور ایس او پیز مرتب کیے گئے ہیں اور مختلف شہروں میں مخصوص ہسپتالوں کی بھی نشاندہی کی جا چکی ہے تاکہ کسی خطرے کے پیش نظر وائرس سے متاثرہ افراد کی مخصوص ہسپتالوں میں نگہداشت کی جا سکے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چین کے شہر ووہان جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے وہاں اس وقت اٹھائیس سے تیس ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں سے پانچ سو طالبعلم ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ابھی تک چین میں موجود کسی بھی پاکستانی میں کرونا وائرس کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کے حوالے سے چین کی حکومت نے ووہان شہر سے مسافروں کی آمدو رفت پر فی الحال پابندی لگا رکھی ہے تاہم پاکستانی طلباءاور دیگر پاکستانیوں کے حوالے سے پاکستانی وزارتِ خارجہ، سفارت خانہ چینی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔کابینہ کو ٹڈی دل (لوکاسٹ) کے خطرے اور اس کی روک تھام کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں مہنگائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کی روک تھام کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی۔ مہنگائی کا سبب بننے والے مافیا کے خلاف ہر ممکنہ کاروائی کی جائے گی اور ایسے مافیا کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ کابینہ نے چینی کی قیمت میں اضافے کے رجحان کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چینی کی قیمت میں اضافے کی روک تھام کے لئے چینی درآمد کی جائے گی۔کابینہ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ مسابقتی کمیشن کی آئینی حیثیت کے حوالے سے عدالت میں حکم امتناعی کو فوری طور پر ختم کرانے کے لئے اقدامات کیے جائیں تاکہ مسابقتی کمیشن موثر طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکے۔ کابینہ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں تمام حقائق چیف جسٹس آف پاکستان کے نوٹس میں لائے جائیں تاکہ اس حوالے سے زیر التوا کیسز کو جلد نمٹایا جا سکے۔کابینہ نے صاف شفاف الیکشن کو یقینی بنانے اور الیکشن کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اصلاحات کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ایجنڈے میں ایم او یو کے معاملے پر سیر حاصل بحث ہوئی ، اس ایجنڈے پر ہر ممبر نے متعلقہ وزارت سے سوالات کیے اور تحفظات کا بھی اظہار کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے سب کی بات سننے کے بعد یہ ہدایات دیں کہ ایم او یو کے اندر وضاحت لائی جائے اور کسی ایک کمپنی کو سہولت میں حصہ دار نہ بنایا جائے، اس عمل کو شفاف بنانے کے لئے پیپرا رولزکے مطابق بڈز کریں، دیگر کمپنیز بھی آتی ہیں تو انھیں میرٹ پردیکھیں، ایم او یو کو اس انداز میں کابینہ نے سپورٹ کیا اور نہ ہی وزیراعظم نے اس کی اجازت دی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بار بار باور کرواتی رہی ہوں کہ جن کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بندوق چلانا چاہتے ہیں یا وہ آپ کے کندھوں پر چلانا تو چاہتے ہیں لیکن ان کے بازومیں اتنی سکت نہیں ہے، دونوں جماعتیں مولانا سے ہاتھ کر گئیں، بڑا بھائی اور چھوٹا بھائی وہ میچ ہے جس کی مولانا کو حقیقت سمجھ آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم بحران سے متعلق وزیراعظم نے حقائق جاننے کے لئے کمیٹی تشکیل دی اس کی فائنڈنگ آنا باقی ہے، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں بھی اپنے اس عزم کو دہرایا کہ رپورٹ کے اندر جن ذمہ داران کی نشاندہی ہوگی انھیں معاف نہیں کیاجائے گا ، اپنا ہو یا پرایا کوئی بھی بچ نہیں پائے گا ۔ وزیراعظم کا سرمایہ اور اثاثہ پاکستان کے عوام ہی ہیں ،اپنے دل میں عوام کا درد اور احساس محسوس کرتے ہیں عوام کے ریلیف کے راستے میں کوئی بھی آئے گا تو اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کپتان اگر محسوس کرتا ہے کہ ٹیم میں کھیلنے والے کھلاڑی کو تبدیل کریں، وزیراعلی کو اپنی ٹیم کے ساتھ تحفظات ہیں اس میں کرپشن کا کوئی ایشو نہیں ہے ، کوئی بھی وزیر جوعمران خان کی ٹیم میں کھیل رہا ہے انھیں اپنی باﺅنڈری کا پتہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئی بحران نہیں ہے، اتحادی عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مشرف،گیلانی ،نواز شریف سے لیکر اب تک جو بھی دوروں پر جاتے ہیں تھینک ٹینکس میزبانی کرتے ہیں لیکن ان کا اعتراف نہیں کیا جاتا ،وزیراعظم عمران خان نے تھینک ٹینک کے کردار کا اعتراف کیا ہے، اوورسیز پاکستانیز اس ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سرگرمی کے لئے کوشش کرتے ہیں تو یہ ان کی اس ملک کے لئے کاوش ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس سے غیر حاضری سے متعلق چھٹی کی درخواست دی جاتی ہے آج بھی مختلف اسائمنٹس کی وجہ سے وزراءاجلاس میں حاضر نہیں ہوئے تاہم انہوں نے اپنی رخصت سے متعلق آگاہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اندر پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے تا کہ میرٹ پر تعیناتیاں ہوں اور ایف آئی آر درج ہوں اور شفاف انداز سے تفتیش ہو، جی ڈی اے اور ہمارے ممبران کے تحفظات تھے کہ سندھ پولیس کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ایسا شخص تعینات کریں جس کا سندھ سے تعلق نہ ہو ۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے کابینہ کو سابق وزراءاعظم اور صدر کے اخراجات کے حوالے سے پریزنڈیشن دی گئی تھی کہ پچھلے 10سالوں میں 24ہزار ارب کا قرض لیا گیا ، یہ قرض کا پیسہ قوم پرنہیں لگایا گیا ، پینے کے پانی، سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے، ہسپتالوں کی حالت بہتر کرنے پر نہیں لگایا گیا اور تمام ادارے خسارے میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے 5کیمپ آفسز تھے، ان کی سکیورٹی ،انٹرٹینمنٹ ،بچوں کے اخراجات پاکستانی قوم کے ٹیکس کے پیسے سے ادا کیے گئے ،ملتان اور لاہور میں پانچ کیمپ آفس رکھے گئے۔سابق صدر آصف علی زرادری کے تین کیمپ آفسز سمیت مجموعی طور پر مختلف امور پر 316کروڑ 41لاکھ خرچ ہوئے اور انہوں نے 59غیر ملکی دورے کیے، آصف علی زرداری کی سکیورٹی پر پانچ سال تک کم سے کم 790 اور زیادہ سے زیادہ 1722 اہلکار مامور تھے جس پر 163ارب 71کروڑ 37لاکھ خرچ ہوئے ۔ شریف برادران نے لاہور شہر میں پانچ کیمپ آفس رکھے ،جاتی عمرہ سکیورٹی پر 214کروڑ 13لاکھ 10ہزار 23روپے خرچ ہوئے ،جاتی امراءمیں ذاتی گھر پر 27کروڑ کی باڑ لگائی گئی ،شریف خاندان کی سکیورٹی پر2753اہلکار تعینات تھے ،ان کے بچوں حمزہ، داماد کے نام پر ایک ایک سکواڈ ذمہ داریاں نبھا رہا تھا، نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے لئے خصوصی طیارہ گیا وہاں پر انتظار کے بعد واپس پاکستان آیا اور پھر انھیں لینے کے لئے لندن گیا ، خصوصی جہاز کے ایک وزٹ پر 34کروڑ خرچ ہوئے، شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیراعلی بنے تو 130کروڑ کا نیا ہیلی کاپٹر خریدا ،وی وی آئی پی پرواز کے لئے وزیراعظم کے جہاز کو شہباز شریف نے 556 دفعہ استعمال کیا، شریف خاندان کے بچوں کو رائیونڈ سے اسلام آباد اورمری لایا اور واپس لے جایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف پچھلے چار سال حکومت کرنے کے بعد نااہل ہوئے تو ان کے بھائی نے بطور وزیراعلی ایک نوٹیفکیشن کے زریعے رائیونڈ کو دوبارہ کیمپ آفس قرار دیدیا ۔شہباز شریف نے 872کروڑ69لاکھ کی عیاشی کی ،نواز شریف نے لندن کے 25 پرائیویٹ دورے کیے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم ہاﺅس کو استعمال نہیں کیا اور اپنے اس وعدے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، پر کاربند ہیں ،عمران خان نے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک کی مرمت ،گھر کی فنسنگ ذاتی خرچ سے کی اور امریکہ سمیت ہر فورم میں شرکت پر کمرشل فلائیٹ کا استعمال کر کے بھاری بچت کی ہے ۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ وفاقی کابنہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قومی خزانے سے استعمال ہونے والی یہ رقوم ایک ماہ میں وصول کی جائیں گی ،ایک ماہ میں یہ پیسہ حکومت کو ادا نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی اور مستقبل کے لئے ہم نے کیمپ آفسز، انٹرٹینمنٹ اورپارٹی اجلاس اخراجات قوم کے پیسے سے اداکرنے کا راستہ روکنے کے لئے رولز میں ترامیم کی منظوری بھی دیدی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان قوم کا ایک ایک روپیہ بچا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ این ایچ اے میں کرپشن کے کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بجھوائے اور اب تک 1190کروڑ کی وصولیاں کی گئی ہیں ۔