سرینگر ۔ 18 جنوری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھارتی فوج کے سابق سربراہ اور موجودہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کیلئے نازی طرز کے عقوبت خانے قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل راوت نے نئی دلی میں ایک کانفرنس سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے جن کی نشاندہی کرکے انہیں انتہا پسندی ختم کرنے والے کیمپوں میں ڈالا جانا چاہیے ۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور کشمیری دانشوروں نے امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راوت کے الفاظ سے انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت کشمیری عوام کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور یہ پریشان کن واقعات کے ایک نئے سلسلے کا باعث بن سکتا ہے۔ ممتاز کشمیر ی تاریخ دان صدیق واحد نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جنرل راوت نے تعذیب خانے قائم کرنے کا عندیہ دیاہے ۔ سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر نور احمد بابا نے کہا کہ بھارت اب کشمیر میں تمام سیاسی اختلافات کو کچلنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے کیمپس قائم کرنے کی جس کا عندیہ جنرل راوت نے دیاہے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن ساکت گوکھلے نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ انہوں نے بھارت میں تعذیب خانوں کے بارے میں سنا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے بھی اپنے بیانات میں پہلے ہی کہا ہے کہ انتہا پسندی کو ختم کرنے کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو ان تعذیب خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔دریں اثناء وادی کشمیر میں مسلسل 167ویں روز بھی بھارت کی طرف سے نافذ کردہ فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ پر پابندی بدستور جاری رہی۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں خطے کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی اور وادی کشمیر میں براڈ بینڈسروسز کی فراہمی کے لئے 400مراکز قائم کرنے کے قابض حکام کے اعلان پر ابھی تک عملدرآمد دکھائی نہیں دے رہا۔نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ادارے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوںنے افسو س کا اظہار کیاکہ بھارتی حکا م قومی سلامتی کے نام پر انسانی حقوق کی پامالیوں کو جائز قراردینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ادھر بھارتی فوجیوں نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کی جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔ جموں خطے میں ضلع ادھمپور کے علاقے رحمبل میں قائم ایک فوجی کیمپ میں ایک بھارتی فوجی نے اپنی سروس رائفل سے خود کشی کرلی ہے۔اس واقعے سے مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2007 سے خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر444ہوگئی ہے۔جموںوکشمیر ایمپلائز موومنٹ کے وائس چیئرمین امتیاز وانی اور جموںوکشمیر پیر پنجال فریڈم موومنٹ کے وائس چیئرمین قاضی محمد عمران نے اسلام آباد میں جاری اپنے بیانات میں پلوامہ ،بڈگام، ڈوڈہ اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر علاقوں میں حال ہی میںبھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیاہے۔