اسلام آباد ۔ 23 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میڈیا کو طاقتور ادارہ بنانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں 72سال بعد “قومی میڈیا پالیسی ” لارہے ہیں ، پالیسی صرف اشتہارات تک محدود نہیں بلکہ میڈیا کے تمام شعبوں کے حقوق کی ضامن، جذبات، احساسات اور ضروریات کی عکاسی کریگی، میڈیا کے ساتھ ملکرمیڈیا انڈسٹری کو مسائل سے نکال کر ایک ایسا روڈ میپ دے رہے ہیں جس میں حقوق اور فرائض کے درمیان توازن قائم ہوگا، میڈیاملک اور قوم کے مفاد میں سچ لکھے، بلاجواز الزام تراشی سے وقتی شہرت تو ملتی ہے لیکن عوام کی عدالت میںحقیقی شکست ہوتی ہے، ریاست اور صحافت دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ،حکومت اس میں پل کا کردار ادا کررہی ہے۔ وہ جمعرات کو مقامی ہوٹل میں صحافی حنیف خالد کی کتاب “نصف صدی کا صحافتی سفر” کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہی تھیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جو لوگ معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے قلم کی طاقت کے جنبش سے معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وہ لوگ دوسروں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیںاور سب ان کے لئے دعا گو رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ایک ایسا سمندر ہے جس کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن ہوئے بغیر گوہر نایاب کا حصول ناممکن ہے کیونکہ صحافت پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے ، صحافی اپنی جانوں کی خطرے میں ڈال کر دوسروں کی راحت کا سبب تلاش کرتے ہیں جو مشکل ترین کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کے مصنف ایک مخلص ،سچے اور درد ل رکھنے والے پاکستانی ہونے کی حیثیت سے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، وہ ایک صحافی ہی نہیں ایک درد دل رکھنے والے انسان بن کر سامنے آئے ،انہوں نے شدت سے یہ بات محسوس کی کہ ان کے والدین قیام پاکستان کے وقت لازوال قربانیوں اور صعوبتیں جھیلنے کے بعد ہندوستان سے پاکستان آئے ۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے صحافت کا جو دشوار ترین راستہ چنا وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ چینلجز کو مواقعوں میں بدلنے کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں مصنف نے نصف صدی میں جو کچھ دیکھا اسے بے باکی اور سچ کے ساتھ لکھ دیا ،انکی آب بیتی گذرے لمحات کی آئینہ دار ہے جو اپنے اندر بہت سے غم اور تھوڑی خوشیاں سمیٹے ہوئے ہے ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس تصنیف سے آئندہ نسلوں کے لوگ استفادہ کرینگے، اس تصنیف میں مصنف کی زندگی کے تمام نشیب و فراز کا مشاہدہ کرتے ہوئے ان کے تجربات سے سیکھتے ہوئے صحافتی برادری اپنی مثبت سمت کا تعین کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صدی میں ابلاغ کی اہمیت سے جڑے ہوئے چیلنج میں ہمارے قلم کار ملک اور قوم کے مفاد میں سچ لکھیں ،بلاجواز الزام تراشی سے وقتی شہرت پا لیتے ہیں لیکن عوام کی عدالت میں مقدمہ ہار جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے نہ صرف اس کتاب میں عوام کے مسائل کی نشاندہی کی بلکہ ان تجربات کو ایک کتاب کی شکل دی جو ہمارے لئے سبق آموز اور تاریخ کی تلخص حقیقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے اندر صحافتی صنعت کے کردار کو آگے بڑھاتے رہیں گے ، صحافت ایسے ادارے کا روپ دھار چکی ہے جس نے تمام باقی اداروں کو تقویت دینی ہے، ہر ادارہ اپنی بہتری کے لئے اس کی طرف دیکھتا ہے، اس کو طاقت ور ادارہ بنانے میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں 72سال میں پہلی مرتبہ قومی میڈیا پالیسی لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ہر شعبے میں بحران ،مسائل اور چیلنجز ہے اسی طرح میڈیا انڈسٹری بھی اس کا شکار ہے ،جب معاشرے اور قوم پر معاشی چیلنجز آتے ہیں تو اس میں ہر شعبہ مشکلات کاشکار ہوا اب ایک بہتری کا سفر شروع ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بحثیت شہری بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اوربحثیت شہری اس ریاست کے جو آپ پر حقوق ہے اس کی ادائیگی ملکر نبھائیں گے ۔