اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزارت انسانی حقوق نے ملک میں مرد و خواتین سمیت بچوں، خصوصی افراد اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے اہم قانون سازی کرانے کے ساتھ بچوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے ہیلپ لائن 1099 کے قیام اور سکولوں میں آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، اسلام آباد میں بچوں و عورتوں کےلئے خصوصی پولیس سٹیشن مختص کئے گئے،کریمنل لاءایکٹ 2016ئ، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ایکٹ 2018ئ، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ءمتعارف کرائے گئے۔ وزارت انسانی حقوق کی طرف جاری رپورٹ کے مطابق زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بل 2019ءاور پروہیبیٹیشن آف کارپورل پنشمنٹ بل 2019ءپر قانون سازی کی گئی۔ اس کے علاوہ نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ، نیشنل ایکشن پلان آن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ابیوز پر بھی کام شروع کیا گیا۔ انٹر ایجنسی پروٹوکول فار چائلڈ ابیوز اور کنسلٹیٹیو کمیٹی آن چائلڈ ابیوز اینڈ بیگری کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ وزارت نے چائلڈ ابیوز، چائلڈ لیبر، چائلڈ پروٹیکشن اور ینگ اچیورز پر آگاہی مہم کا آغاز کیا۔ رپورٹ کے مطابق سنگینی کے پیش نظر چائلڈ ابیوز کے کیسز پر بروقت ایکشن لئے گئے۔ وزارت انسانی حقوق نے معذور افراد کی فلاح کےلئے بھی اہم اقدامات کا آغاز کیا۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری رائٹس آف ڈس ابیلیٹی بل 2018ءمتعارف کرایا گیا۔ صوبائی حکومتوں میں کنونشن آن رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلٹی اینڈ اینچوئن سٹریٹجی ورکشاپس کے انعقاد کے ساتھ ادارپ برایءشماریات پاکستان کے تحت معذور افراد کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا گیا۔ وزارت انسانی حقوق نے ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے بھی اقدامات اٹھائے۔ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ اور ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ کے ڈرافٹ کی تیاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق قیدیوں کے حقوق کےلئے ٹارچر، کسٹوڈین اینڈ ریپ( پریونشن اینڈ پنشمنٹ) بل 2018ءمتعارف کرایا گیا اور رحم کی اپیل کے طریقے کی اصلاح اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی سربراہی کی گئی۔ وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کےلئے کرسچین میریج اینڈ ڈائیورس بل 2019ءکا ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ مذہبی ہم آہنگی کیلئے ایکشن پلان کی تیاری اور ہندو اقلیتوں کے اغواءکے کیسوں کےلئے کمیشن کی تشکیل کی گئی۔