اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی جلد تکمیل اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالہ سے مشاورتی عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، چین نے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے، سی پیک منصوبہ ہمہ جہتی پاک۔چین تعلقات کا مظہر ہے، سماجی شعبوں خصوصاً غربت کے خاتمہ اور زراعت جیسے شعبوں کے فروغ کے ضمن میں چین کے تجربہ سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات منگل کو چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے جائزہ کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور محمد حماد اظہر، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر برائے بحری امور سیّد علی حیدر زیدی، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر اور سینیئر افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان کو پاک۔چین اقتصادی راہداری کے تحت مرحلہ وار قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو سی پیک کے پہلے مرحلہ میں توانائی، روڈ نیٹ ورک، ریل نیٹ ورک، گوادر پورٹ جبکہ دوسرے مرحلہ میں صنعتی تعاون، زراعت کے فروغ، سماجی و اقتصادی ترقی، سیاحت اور دیگر منصوبوں کے حوالہ سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلہ میں توانائی اور سڑکوں کے بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ گوادر بندرگاہ اور ایئر پورٹ پر کام مرحلہ وار طریقے سے جاری ہے، اورنج لائن منصوبہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ کوئٹہ ریلوے کی فزیبلٹی کے حوالہ سے مشاورت جاری ہے۔ صنعتی ترقی کے حوالے سے شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ علامہ اقبال خصوصی اقتصادی زون کا وزیراعظم نے حال ہی میں سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، رشاکئی خصوصی اقتصادی زون کا سنگ بنیاد فروری میں متوقع ہے جبکہ دھابیجی اکنامک زون کی بڈنگ کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ سی پیک فیز ٹو کے تحت سماجی و معاشی ترقی کے ضمن میں تعلیم، صحت، کم آمدنی والے افراد کےلئے ہاو¿سنگ، غربت کے خاتمہ، احساس پاورٹی گریجویشن پروگرام اور غذائی کمی و سٹنٹنگ کے خاتمہ کے ضمن میں مجوزہ منصوبوں کے حوالہ سے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی جلد تکمیل اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالہ سے مشاورتی عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ چین نے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ ہمہ جہتی پاک۔چین تعلقات کا مظہر ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ سماجی شعبوں خصوصاً غربت کے خاتمہ اور زراعت جیسے شعبوں کے فروغ کے ضمن میں چین کے تجربہ سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کو سی پیک کے دوسرے مرحلہ کے تحت مختلف منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کی رفتارکو تیز کرنے کے حوالہ سے ہدایات دیں۔ وزیراعظم نے سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں سماجی و معاشی ترقی کے حوالہ سے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پرحتمی شکل دینے اور ان کی بروقت تکمیل پر زور دیا اور اس ضمن میں تمام متعلقہ وزارتوں کو منصوبوں کی تکمیلی مدت کے اہداف متعین کرنے، بین الوزارتی کوآرڈینیشن کو مزید مو¿ثر بنانے کے حوالہ سے ہدایات جاری کیں۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی سی پیک فیز ٹو پر عملدرآمد کے حوالہ سے آئندہ جائزہ اجلاس میں متعین کردہ اہداف، منصوبوں پر عملدرآمد میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی جائے۔