اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) چین کی جانب سے پاکستان میں جاری مالی سال کے دوران براہ راست سرمایہ کاری میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے لے کر دسمبر تک کے عرصہ میں چین نے پاکستان میں 422.3 ملین ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی۔ یہ شرح گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 99.85 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں چین نے پاکستان میں 211.3 ملین ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی تھی۔ دسمبر 2019ءمیں چین کی جانب سے پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 382.2 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی سے لے کر نومبر تک کے عرصہ میں چین کو پاکستانی برآمدات کا حجم 727.48 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں چین کو پاکستانی برآمدات کا حجم 741.64 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مذکورہ عرصہ میں چین سے درآمدات پر 4.025 ارب ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں چین سے درآمدات پر 4.25 ارب ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا تھا۔ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق چین کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدے کے دوسرے مرحلے پر یکم جنوری سے آغاز ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی اشیاءکو چینی مارکیٹ میں ڈیوٹی کی چھوٹ حاصل ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام پر چین کو پاکستانی برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں ملک کے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔