اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) پنجاب حکومت نے خصوصی منصوبہ کے تحت چکوال میں3200 ہیکٹرز رقبہ پر زیتون کے 10 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے ہیں، منصوبہ سے ضلع کے 750 سے زائد کاشتکار مستفید ہوں گے، پاکستان میں زیتون کی شجرکاری کے فروغ سے پام آئل کی درآمدات پر انحصار میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل (فیڈرل ) احمد جواد نے کہا ہے کہ ملک کے ہارٹیکلچر سیکٹر میں زیتون کی شجرکاری ایک خوشنما اضافہ ہے ۔ بدھ کو ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد جواد نے کہا کہ زیتون کی شجرکاری کے فروغ سے آنے والے سالوں کے دوران پام آئل کی ملکی درآمدات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے گی، جس کیلئے مارکیٹنگ کا مناسب نظام وضح کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ملک میں زیتون سے تیل نکالنے کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں تاہم زیتون کی شجر کاری سے حقیقی استفادہ کیلئے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت چاہئے کہ وہ نجی شعبہ کو مراعات فراہم کرے تاکہ زیتون سے تیل نکالنے کے پلانٹس کی درآمد کی جا سکے تاکہ زیتون کی پیداوار اور اس کی قیمت سے کاشتکار کو حقیقی معنوں میں فائدہ حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زیتون کی پیداوار کیلئے پر عزم ہے اور آنے والے سالوں کے دوران زیتون کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ زیتون کی کاشت میں اضافہ کے حوالے سے پنجاب حکومت نے خصوصی منصوبہ شروع کیا ہے اور چکوال میں شروع کئے گئے اس منصوبہ کے تحت 3200ہیکٹر رقبہ پر دس لاکھ سے زیادہ زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں اور ضلع کے 750سے زائد کاشتکار منصوبہ سے مستفید ہوں گے۔ احمد جواد نے کہا کہ پاکستان کے بعض علاقے زیتون کی کاشت کے حوالے سے انتہائی موزوں ہیں اور اس کی شجرکاری کے فر وغ سے قومی معیشت کی ترقی کے اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے کہا کہ پاکستان دو ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کرتا ہے ، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباﺅ بڑھتا ہے تاہم زیتون کی پیداوار کے فروغ سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 3.5ملین ہیکٹر رقبہ زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ہے ، جن میں پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقے شامل ہیں، جہاں پر زیتون کی کاشت کو فروغ دیکر دیہی معیشت کی ترقی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے ۔