نیو یارک۔ 25 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے کامیاب دورے سے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی جو ملک کو درپیش اقتصادی و معاشی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر اپنے بیانیے کو آگے بڑھارہے ہیں،انتونیوگوتریشن کے دورے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہارمعروف بین الاقوامی آن لائن میگزین ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کیا گیا۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) کے معاون محقق حمزہ رفاقت حسین نے مضمون میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کا چار روزہ دورہ عمران خان کی حکومت کی اہم کامیابی ہے جنہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کے محور کے طور پر وادی میں مسئلہ کشمیر اور بھارت کے کریک ڈاو¿ن کے معاملے کو مستقل طور پر زندہ رکھا ہواہے،اس کامیاب ترین دورے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔آرٹیکل کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے متعدد تبصرے جو مثال کے طور پر آب و ہوا کی تبدیلی میں پاکستان کے کردار اور عالمی امن عمل میں اس کی شراکت کے بارے میں تھے ، کی بڑے پیمانے پر ٹی وی کوریج بھی ہوئی ۔مضمون میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل کے دورے کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا جسمیں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ترکی پاکستان کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے اور بھارت کو کشمیریوں کا سفاکانہ محاصرہ بند اور ان کے بنیادی حقوق بحالیکرنے چاہئیں، اس کے بعد بھارتی حکومت کی تنقید میں ترک صدر کے بیان کوبھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا، تاہم بھارت اسی طرح کے غصے اور سرزنش کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے پاکستان کے دورے پر اظہار نہیں کر سکا۔مضمون نگار نے کہا کہ ماضی میں بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی پالیسیوںکے خلاف ڈھیلا ڈھالا اور نرم موقف اپنانے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نکتہ چینی کا شکار رہی تھی، 2016ءمیں کشمیر میں برہان وانی کے قتل پر کئی جہتی نکتہ نظر پر مبنی ردعمل ہوناچاہیے تھا جبکہ اس وقت محض مذمت کے الفاظ سےکام لیا گیا۔کئی لوگوں کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قربت ایسے کئی مواقع پر جیساکہ پیرس میں موسمیاتی تبدیلی بارے سربراہی اجلاس کے موقع پراور 2015ءمیں مودی کے اچانک لاہور کے دورے میں بھی دیکھی گئی، کی مسلم لیگ (ن) کے مخالفین نے مزاحمت کی جنھوں نے مودی حکومت کی طرف کسی بھی قسم کے جھکاﺅ کو غیرضروری اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا، اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم میں سابق وزیر اعظم کشمیر کے معاملے کو زوردار طریقے سے پیش کرنے میں بھی ناکام رہے تھے ۔ اب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ کو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی کامیابی کے طور پر سراہا جارہاہے اور پی ٹی آئی کی ریاست میں سیاسی پذیرائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اندرون ملک کئی اقتصادی و معاشی مسائل سے نمٹ رہی ہے ۔