اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کا پاکستان کی مسلح افواج نے جس طرح جواب دیا اسے دنیا یاد رکھے گی، بھارت آر ایس ایس کے نفرت اور فسطائیت پر مبنی ہندوتوا نازی نسل پرستانہ نظریہ پر عمل پیرا ہے، بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیاءکا امن خطرے میں پڑ گیا ہے، 5 اگست 2019ءکو بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹیکل -A 370 کے خاتمہ کا یکطرفہ اقدام کیا، مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ لوگ 9 لاکھ بھارتی افواج کے ہاتھوں یرغمال ہیں، مودی حکومت 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، نئی دہلی کے فسادات خون خرابہ کا آغاز ہیں، یہ وقت ہے کہ دنیا بھارتی اقدامات کا نوٹس لے، امریکی صدر نے بھارتی سرزمین پر پاکستان کے مو¿قف کی تائید کی، پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کا کامیابی سے خاتمہ کیا ہے، دنیا کی سپر پاور افغانستان میں یہ جنگ نہیں جیت سکی، ملک پر مشکل وقت نکل گیا ہے، پاکستان قائداعظم کے خواب کے مطابق عظیم ملک بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو 26 فروری 2019ءکے بھارتی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مجاہد انور خان، وفاقی وزرائ، ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی سفراءو دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گزشتہ سال کے واقعہ پر پاکستانی قوم نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور مسلح افواج نے جس طریقہ سے اس کا جواب دیا اس پر فخر ہے، پلوامہ حملہ کے بعد اندازہ تھا کہ بھارت جارحیت کرے گا، اس سلسلہ میں ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس بھی تھیں، پاکستان بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کےلئے مکمل تیار تھا، صبح تین بجے ایئر چیف نے بھارتی جارحیت کی خبر دی، افراتفری میں جواب دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کا جواب ایک ذمہ دارانہ تھا جس طرح پاک فوج اور پاک فضائیہ تیار تھیں پاک بحریہ نے بھارت کی سب میرین کو لاک کیا، بھارتی جارحیت کا جس طرح جواب دیا دنیا یاد رکھے گی، بھارتی جارحیت پر تمام سیاسی جماعتوں کا مو¿قف ایک تھا اور اسمبلی میں اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں نے ایک یکساں مو¿قف اختیار کیا، بھارتی پائلٹ واپس کرنا ایک ذمہ دار قوم ہونے کی نشانی تھی لیکن بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالف پروپیگنڈا پر چلائی گئی، کسی بھی قوم کی پہچان بحران کے وقت ہوتی ہے کہ وہ کس طرح اس سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت مشکل میں پھنس گیا ہے اور وہ خطرناک راستے پر چل رہا ہے، بھارتی اقدامات کا سب سے زیادہ نقصان خود بھارت کو ہو گا، بھارتی حکومت نے نسل پرستی اور فسطائیت پر مبنی آر ایس ایس کا نظریہ اختیار کیا ہوا ہے اور جو بھی قوم اس نظریہ پر عمل پیرا ہوئی اس کے بعد خون خرابہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی نسلی یا مذہبی طور پر اپنے آپ کو بالاتر اور دوسروں کو کم تر سمجھتا ہے تو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے اور 9 لاکھ بھارتی افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے عوام یرغمال اور پوری وادی کھلی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے، بھارت میں مودی حکومت 20 کروڑ مسلمانوں کو شہریت کے متنازعہ قانون کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے، بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری، سکھ، دلت اور قبائلیوں کی کل تعداد 50 سے 60 کروڑ بنتی ہے جس کے بعد وہ دوسری اقلیتوں کو بھی نشانہ بنائے گا لیکن اتنی بڑی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے خطرناک نتائج نکلیں گے، میانمار، روانڈا، بوسنیا اور جنوبی افریقہ میں اسی طرح کی نسل پرستانہ پالیسیاں اختیار کی گئی تھیں، عالمی برادری کو بھارت کو روکنے کےلئے کردار ادا کرنا ہو گا، نسل پرستی اور مذہبی جنونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آئے تو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے، نئی دہلی میں فسادات خون خرابے کا آغاز ہیں، آر ایس ایس کے انتہاءپسندوں نے ہی مہاتما گاندھی کو بھی قتل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے جو قوم کے اعتماد پر پورا اتریں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے پراعتماد رویہ سے مجھے بھی اعتماد حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا ہندوتوا فلسفہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے اور بالاکوٹ کے واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارت کو بھرپور جواب دیا اور امریکی صدر نے دورہ بھارت کے دوران پاکستان کے مو¿قف کی تعریف کی اور جس طریقہ سے پاکستان کے بارے میں اظہار خیال کیا اس پر بھارتی میڈیا نے بہت تنقید کی، دنیا کا کوئی میڈیا اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکات نہیں کرتا جس طرح بھارت کا میڈیا کرتا ہے، بھارتی میڈیا نے دونوں میں ملکوں کی جنگ کی پوری کوشش کی، پاک۔بھارت کشیدگی کے دوران ہمارے میڈیا نے انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور 5 اگست 2019ءکو بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں، شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹیکل -A 370 کے خاتمہ کا یکطرفہ اقدام کیا، 5 اگست کے بعد بھارت کا سیکولر کا نظریہ ختم ہو چکا ہے، شہریت ایکٹ جیسے قوانین جدید دور میں منظور نہیں ہوتے، بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیاءکا امن خطرے میں پڑ گیا ہے، یہ وقت ہے کہ دنیا بھارتی اقدامات کا نوٹس لے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاکستان کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور سیاسی قیادت اور میڈیا کو بھی سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلہ میں طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بہت مشکل تھی اور اس جنگ میں دشمن سامنے نہیں ہوتا، ہماری مسلح افواج نے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی پر قابو پایا حالانکہ دنیا کی سپر پاور افغانستان میں یہ جنگ نہیں جیت سکی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت آج مسلمانوں کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے اور قائداعظم نے انہی چیزوں کی قیام پاکستان سے پہلے پیش گوئی کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر مشکل وقت نکل گیا ہے اور پاکستان میں سیاحت سمیت تمام شعبوں کی ترقی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ملک جس سمت میں جا رہا ہے اس سے پاکستان وہ عظیم ملک بنے گا جس کا قائداعظم نے خواب دیکھا تھا۔