اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام اسی صورت قائم ہو سکتاہے جب مسئلہ کشمیر حل ہو گا، بھارت کی موجودہ حکومت نے تنازع کو مزید الجھا دیا ہے، صدر ٹرمپ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ امن و استحکام کے فروغ کے لئے ہاتھ بڑھائے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی صدر کے دورہ بھارت کے حوالے سے اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مثبت کردار ادا کرے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہاتھ بڑھائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے دیرینہ مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ بھارت کی موجودہ حکومت نے اس پیچیدہ مسئلہ کو مزید الجھا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات نے کشمیر کے تشخص کو متاثر کیا ہے اور اس کو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، 206 روز ہوگئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ہے۔ ان حالات میں بات کیسے آگے بڑھے گی۔ بھارت یہ راگ الاپتا رہا ہے کہ آزادی کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد مقامی نہیں ۔ صدر ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن کا شراکت دار ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو شکست دینے میں جو پیش رفت کی ہے وہ دنیا میں ایک مثال ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان جس کو بھارت ایک مسئلہ کہتا تھا آ ج دنیا اس کو ایک حل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ خطے میں پاکستان کا جو کردار ہے اسے سراہا جا رہا ہے اور جو پاکستان نے کہا کہ متنازعہ شہریت قانون کی وجہ سے بھارت میں خلفشار ہے اس کا عملی مظاہرہ انہوں نے خود دیکھ لیا کہ اس وقت دہلی کی صورت حال کیا ہے۔ مجھے یقین ہے صدر ٹرمپ دورہ بھارت میں مسئلہ کشمیر پر ضرور بات کریں گے۔ صدر ٹرمپ کو مسلہ کشمیر پر تشویش ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ دو ایٹمی قوتیں آ منے سامنے ہیں۔ اگر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو امن کا خلل پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ماہرین نے تجزیہ پیش کیا کہ اگر دونوں ملکوں میں چپقلش ہوتی ہے تو اس کے اثرات دنیا پر کیا ہوں گے۔ ان چیزوں کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔بھارت کو اپنے رویے اور پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ صدر ٹرمپ کا بھارت میں پاکستان سے متعلق بیان غیر معمولی تھا اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ صدر ٹرمپ نے کرکٹ سٹیڈیم میں ہندتوا نظر یئے کے حامل بہت بڑے مجمع کے سامنے یہ بیان دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ جب ہم حکومت میں آ ئے تودونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری تھی۔ تعلقات میں تناﺅ تھا ساﺅتھ ایشیا سٹریٹیجی کا اعلان ہو چکا تھا۔ پاکستان کو ایک مسئلہ سمجھا جا رہا تھا لیکن آ ج جو خوشگوار تبدیلی آ ئی ہے اس پر میں پوری قوم، افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں۔