سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 528 ملین ڈالر اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک

اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی ترسیلات زر میں 528 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے، گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی شرح میں 4.13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا جنوری 2019-20ء کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں نے 13.302 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا جنوری 2018-19ء کے دوران ترسیلات زر کا حجم 12.774 ارب ڈالر تھا ۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی وصولی میں 528 ملین ڈالر یعنی 4.13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی ترسیلات زر میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ رقوم بھیجی گئی ہیں جو مجموعی ترسیلات زر کے 23 فیصد کے مساوی ہیں اور رواں مالی سال کے دوران سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 3.051 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران سعودی عرب 2.97 ارب ڈالر کی ترسیلات کی گئی تھیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے پہلے 7 مہینوں کے دوران امریکہ سے کی گئی ترسیلات زر کی شرح میں 11 فیصد جبکہ برطانیہ سے بھیجی گئی رقوم کی وصولی میں 5.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں جولائی تا جنوری کے دوران امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 2.22 ارب ڈالر بھیجے گئے ہی جبکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے ہم وطنوں کے لئے 2.052 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں۔ ایس بی پی کے مطابق جنوری 2019ء کے مقابلہ میں جنوری 2020ء کے دوران ترسیلات زر کی وصولیوں میں 9.34 فیصد اضافہ ہوا ہے اور جنوری 2020ء کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 1.907 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی گئی ہیں جبکہ جنوری 2019ء کے دوران ترسیلات زر کا حجم 1.744 ارب ڈالر رہا تھا۔